نیا انداز‬

406

ابو میں اس دفعہ بہت بڑا جھنڈا لوں گا اور اپنی چھت پرلگائوں گا کیونکہ میرا دوست کے گھر بھی بڑا جھنڈا لگا ہے آصف نےاپنے والد سے ضدکرتے ہوئے کہا ہے۔کون سا دوست والد نے پوچھا عاصم جو ہماری گلی میں رہتا ہے۔۔ اچھا وہ دوست اسکے ہاں توپچھلی دفعہ ساری جھنڈیاں چودہ اگست کےبعد گری ہوئی تھی اور لوگ بھی جھنڈیوں کے اوپر سے پھلانگ کر جا رہے تھے میں نے ا سکو کہا بھی کہ یہ جھنڈیاں اٹھا لو اسکی بے حرمتی ہو رہی ہے لیکن اس نے کہا کہ انکل یہ پرانی ہو گئی ہے اور اب چودہ اگست ختم ہو گی ہے اس لیے اب اسکی ضرورت نہیں۔۔مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا اور میں نے اس کو سمجھایا کہ اپنے جھنڈے کی عزت کرنا صرف 14 اگست تک نہیں ہیں بلکہ اس کی عزت کرنا ہر گھڑی کرنی چاہیے۔یہ ملک ہمیں اتنی قربانی کے بعد حاصل ہوا ہے ہم سمجھتے ہیں کہہ ہم 14 اگست والے دن جھنڈے اور بیج سجا کر یا ترانے لگا کر اس کا حق ادا کرلیں گے ۔۔۔۔ناممکن۔۔اس کا حق تو ہم ساری زندگی بھی ادا نہیں کر سکتے۔کھلی فضا میں سانس لینے کا احساس۔۔اس کی قدر تم فلسطینیوں کشمیریوں سے پوچھوکہ وہ کیسے ایسی آزاد فضا کے لیے ترس رہے ہیں نہ وہ آزادی کے ساتھ باہر آ جا سکتے ہیں جان کا خوف ہرلحمہ ان کو دبوچے ہوئے ہے ہمارے جھنڈے 14اگست کے بعد گلی میں جگہ جگہ اپنی بے قدری کا رونا رو رہے ہوتے ہیں آزادی ایک خواب ہے جس کی تعبیر کانٹوں سے پھولوں تک ہے یہ ابو یہ تو میں نے بھی محسوس کیا کہ 14 اگست کے بعد ہم لاپروائی سے جھنڈے جھنڈیاں ایک طرف پھینک دیتے ہیں ہاں بیٹا یہ پرچم ہماری عزت وبقا ہے اسکی عزت ہی میں ہماری عزت ہے اسکی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا ضروری ہے ابو پھر ہم چودہ اگست کس طرح منائیں۔۔۔جس سے پتہ چلے کہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں بیٹا ملک سے محبت یہ ہوتی ہے کہ اس کے لیےآپ کچھ کر دکھائیں جو اسکی شان میں اضافے باعث بنے اپنی صلاحیتوں کو اس کی ترقی میں اضافے کا باعث بنانا اسکو صاف ستھرا رکھنا اس کی املاک کی حفاظت کرنا۔۔۔ابو میں کیا کر سکتا ہوں۔بیٹا آپ اس کو سرسبز بنا سکتے ہو لیکن جھنڈیوں سے نہیں بلکہ پودوں اور پھولوں سے۔۔جھنڈیاں بعد میں برباد ہو جاتی ہیں لیکن پودوں سے ملک کی فضا تروتازہ ہوتی ہے اور ملک میں درخت پودے ختم ہوتے جا رہے ہیں ہمارا ملک زرعی ملک ہے لیکن لوگ درخت کاٹ کرعمارتیں بنا رہے ہیں زرعی زمین فروخت ہو رہی ہیں ہم چودہ اگست میں یہ عہد کریں کہ ہم سارے ملک کوسر وسبز شاداب کر دیں گے جن پیسوں کی تم نے جھنڈیاں خریدنی ہے ان پیسوں کے تم پودوں کے بیج خرید لوں اور ان کا خیال رکھو اس درخت سے جتنے بھی لوگ مستفید ہوں گے صدقہ جاریہ بھی ہے اور ملک کی خوبصورتی اور حفاظت کا باعث بھی بنے شکریہ ابو جان آپ نے ہمیں بہت اچھی تجویز دی ہےاب میں بھی 14 اگست کو نئے انداز سے مناؤں گا ۔انشاءاللہ