۔14 اگست… تجدید عہد کی ضرورت

122

چودہ اگست 2021ء… اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 75 یوم آزادی۔ پاکستانی قوم آج آزادی کی پون صدی کی تکمیل کی جانب بڑھتے ہوئے اپنا جشن آزادی بھر پور انداز میں منا رہی ہے، صبح نماز فجر کے بعد دعائوں، پرچم کشائی کی تقریبات، سارا دن جلسے، جلوسوں، مذاکروں و مباحثوں، آتش بازی اور سڑکوں پر ہائو ہو کے مظاہروں کی صورت میں آزادی کا یہ جشن رات گئے بلکہ پوپھٹنے تک جاری رہے گا۔ آزادی یقینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا احساس قدرت نے انسانوں ہی نہیں حیوانوں میں بھی ودیعت کیا ہے چنانچہ آزادی کی اس نعمت کا شکر پاکستان میں بسنے والے ہم بائیس کروڑ انسانوں پر واجب ہے، یوم آزادی پر جشن منانا بھی زندہ دل پاکستانیوں کا حق ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں، جن مقاصد کے حصول کی خاطر ہم نے تحریک آزادی برپا کی تھی… لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی… اپنی، مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کو پامال ہوتے دیکھا تھا… اپنا سب کچھ، گھر بار، مال و متاع اور عزیز و اقارب چھوڑ کر اس پاک خطے کی جانب ہمارے آباء و اجداد نے ہجرت کی تھی کہ ہم اس خطے کو مکمل آزاد فضا میں اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے اور قرآن و سنت کی رہنمائی میں اسے دنیا بھر کے سامنے ایک مثالی اسلامی اور فلاحی ریاست کے نمونہ کی حیثیت سے پیش کریں گے، کیا ہم یہ مقاصد حاصل کر سکے ہیں؟ کیا یہ مملکت واقعی اسلامی و فلاحی مملکت کا نمونہ بن سکی ہے؟ نہیں… ہر گز نہیں… گزشتہ پون صدی میں ہم نے اس مملکت خداداد میں سرمایہ دارانہ جمہوریت، سوشلزم اور سول و فوجی آمریت سمیت ہر طرح کے تجربات کئے ہیں لیکن اسلام، قرآن و سنت یا شریعت کو نظام حکومت کے قریب نہیں پھٹکنے دیا یہاں کے سلیم الفطرت اور نیک نہاد لوگوں کی انتھک اور ہمہ پہلو جدوجہد کے نتیجے میں ہماری مجالس قانون ساز نے ’’قرار داد مقاصد‘‘ تو منظور کر لی اور پھر نفاذ اسلام کے تقاضوں سے بڑی حد تک ہم آہنگ آئین بھی قوم کو نصیب ہو گیا مگر یہاں عملاً اقتدار پر قابض سرمایا دار و جاگیردار سیاست دانوں اور با اختیار سول و فوجی بیورو کریسی کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں نہ تو کبھی عوام کے حقیقی اور مخلص خدمت گاروں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے دیا گیا اور نہ ہی شریعت کی روشنی میں قانون سازی کے تقاضوں پر توجہ دی گئی… نتیجہ یہ ہے کہ آج پون صدی گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں انگریز کے مسلط کردہ قوانین رائج ہیں، یہاں کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں عالمی سامراج کے تابع فرمان بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور عالمی بنک تیار کرتے اور جبراً ان پر عمل کرواتے ہیں کیونکہ ہم سر سے پائوں تک ان کے سودی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں جن کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی ہمارے بیرونی آقائوں ہی کا تیار کردہ ہے یہاں تک کہ اب یکساں نصاب تعلیم کے نام پر جو کچھ ہماری آئندہ نسلوں کو پڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا ہمارے قومی اور ملی تقاضوں اور دین و شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں، نصاب اور نظام تعلیم کے ذریعے ہمیں انگریز کے بعد انگریزی کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے حالانکہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کی قومی اور دفتری زبان اردو ہو گی مگر ان کا ارشاد ہنوز تشنئہ تکمیل ہے آج سے تقریباً چھ برس قبل ملک کی اعلیٰ ترین فاضل عدالت نے بھی واضح فیصلہ سنایا تھا کہ پاکستان کے آئین کی رو سے یہاں کی قومی و دفتری زبان اردو ہے عدالت عظمیٰ نے تمام سرکاری اداروں کو پابند کیا تھا کہ تین ماہ کے اندر ہر طرح کی خط و کتابت اور سرکاری مراسلت میں لازماً اردو کو رائج کیا جائے مگر اس فیصلے کو چھ برس گزر چکے ہیں لیکن پاکستانی قوم سرکاری اور نیم سرکاری بلکہ نجی زندگی تک میں انگریزی کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکی بانی پاکستان کے واضح حکم اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے اور تمام چھوٹے بڑے ادارے ’’توہین عدالت‘‘ کے مرتکب ہو رہے ہیں مگر انگریزی کی غلامی کی زنجیریں توڑنے پر آمادہ نہیں، دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ خود عدالت عظمیٰ اور اس کی ذیلی عدالتیں بھی تاحال اپنی کارروائی اور فیصلے انگریزی میں تحریر کر رہی ہیں اور ظاہر ہے کہ چوں کفراز کعبہ برخیزد، کجا مانند مسلمانی۔ اس صورت حال میں توہین عدالت کی کارروائی کس کے خلاف اور کون کرے گا…؟؟ ذرا آگے بڑھئے تو یہ منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہماری مسلح افواج کا نصب العین تو تحریک نظام مصطفی کے دبائو اور جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی مہربانی سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ قرار پا گیا تھا مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ارباب اختیار کی کوتاہ فہمی کے سبب آج بھی ہماری مسلح افواج کی تعلیم و تربیت کے لیے رائج نظام ماضی کے غاصب حکمران انگریز بہادر کا مسلط کردہ ہے اور ہم ابھی تک انہیں کی روایات کو ایک مقدس امانت کے طور پر سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ آج بھی ہماری فوج کی ہر رجمنٹ اپنی نسبت اور تعلق خالد بن ولید، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان یا دیگر مسلمان سپہ سالاروں اور مجاہدوں سے استوار کرنے کی بجائے اپنی اپنی رجمنٹ کے بانی انگریز کمانڈروں سے جوڑتی ہیں، انہی کی تاریخ، روایات اور کارنامے ہمارے مسلمان سپاہیوں اور افسروں کو پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں اور انہی سے تعلق پر فخر کرنا سکھایا جاتا ہے… اس کے نتیجے میں جو ’’جذبہ جہاد‘‘ ان میں پروان چڑھتا ہو گا اس کا اندازہ لگانا، مشکل نہیں… پورے ملک میں جس طرح شراب، سود اور جوا جیسے حرام کاموں کا ارتکاب کھلے بندوں جاری ہے اور ہمارے ورقی و برقی اور سماجی ذرائع ابلاغ صبح شام جس جانب قوم کی نئی نسل کو دھکیل رہے ہیں، اور جو کچھ اپنے قارئین، ناظرین اور سامعین کو دکھا، سکھا اور پڑھا رہے ہیں اس کے بعد معاشرے میں اگر بدکاری، چوری چکاری، ڈاکے، قتل و غارت جھوٹ، فریب، بدعنوانی، رشوت ستانی، عریانی اور بے حیائی کا دور دورہ ہے تو اس پرحیرت نہیں ہونا چاہئے کہ ہم جو فصل بوئیں گے اس کا کاٹنا عین فطری امر ہے… یوں حقائق کے آئینہ میں دیکھیں تو ہر جانب تاریکی کا راج ہے، امید کی کوئی کرن کہیں سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی تاہم مایوسی اور نا امیدی کی بھی ضرورت نہیں کہ ہمارے خالق و مالک نے کسی بھی حال میں ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا حکم دیا ہے، توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، آج بھی ہم اگر بحیثیت قوم اپنی فکری و عملی لغزشوں، چھوٹے بڑے گناہوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کا کھلے دل و دماغ سے اعتراف کرتے ہوئے اپنے مالک حقیقی کی طرف رجوع کریں، تجدید عہد کرتے ہوئے مخلص، محنتی، باصلاحیت، دیانت دار و دین دار قیادت کی رہنمائی میں عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھیں تو ایک اسلامی ترقی یافتہ، خوش حال اور خود کفیل پاکستان کی منزل کا حصول ناممکن ہے نہ مشکل… مصور پاکستان، شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے اسی جانب رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا تھا ؎
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی