سیکورٹی کمپنی کا وین ڈرائیور 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لے اڑا

94

کراچی( اسٹاف رپورٹر) کراچی میں چوری کی ایک اور بڑی واردات ہوگئی، سیکورٹی کمپنی کی وین کا ڈرائیور 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لے اڑا ، پولیس کو شبہ ہے کہ واردات میں اور بھی لوگ ملوث ہیں ، ساتھی سیکورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا گیا ، پوچھ گچھ جاری ہے ، مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں،پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی کمپنی کی وین کا ڈرائیور 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لے کر غائب ہوگیا، میٹھادر پولیس نے ریجنل منیجر آپریشن شیخ شعیب کی مدعیت میں واردات کا مقدمہ درج کر لیا ،ایف آئی آر کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی رقم کے علاوہ کمپنی کا اسلحہ، دو پستول، ایک رپیٹر ، گاڑی میں لگا کیمرہ اور ڈی وی آر بھی لے گئے،نجی سیکورٹی کمپنی کی کیش وین طارق روڈ پر دفتر سے بینک کی رقم ڈیلیور کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی،رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کرائی جانی تھی، آئی آئی چندریگر روڈ پرسیکورٹی گارڈ محمد سیلم نجی بینک سے رسید لینے گیا ، واپس آیا تو گاڑی موجود نہ تھی،گاڑی کی غیر موجودگی پر سلیم نے ڈرائیور حسین شاہ کو کال کی تو اس نے کہا کہ تھوڑی دیر میں آرہا ہوں،کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد سلیم نے اپنے دفتر کو اطلاع دی ، دفتر سے کال کی گئی تو حسین شاہ کا نمبر بند تھا، گاڑی کی ٹریکنگ لوکیشن معلوم کی گئی، گاڑی شکر گودام مسکین گلی اولڈ کوئنز روڈ پر پائی گئی،گاڑی کی ڈرائیونگ سائیڈ والا دروازہ ان لاک تھا، گاڑی کی تلاشی لی تو کیش، اسلحہ ، کیمرہ اور ڈی وی آر غائب تھا،مقدمے میں ڈرائیور اور اس کے نامعلوم ساتھیوں کو بھی شامل کیا گیا ، واردات 9 اگست کو ہوئی تھی، پولیس کا دعویٰ ہے کہ کیش وین کے ڈرائیور حسین شاہ کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم کے والد نے بیان دیا ہے ہمارا حسین شاہ سے کوئی تعلق نہیں، شاہ حسین کو چند ماہ قبل گھر سے نکال دیا تھا ، ملزم ڈرائیور کا آبائی تعلق کے پی کے سے ہے ، واردات میں ملوث ڈرائیور کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں،چھاپا مار کارروائیاں گلستان جوہر میں ملزم کی رہائشگاہ سمیت دیگر مقامات پر کی گئیں،ملزم کا موبائل فون مسلسل بند ہے،ملزم کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے،شبہ ہے کہ واردات میں محض ڈرائیور نہیںدیگر افراد بھی ملوث ہیں، پولیس نے سیکورٹی کمپنی کے دیگر گارڈز کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے جبکہ سیکورٹی کمپنی کے سپروائزرز کے بیانات بھی لیے جارہے ہیں، پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملزم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت واردات کی ہے، ملزم ڈرائیور ایک سال سے زائد عرصہ سے سیکورٹی کمپنی میں ملازمت کررہا تھا،خطیر رقم کی منتقلی کے لیے سیکورٹی کمپنی کا طریقہ کار نامناسب اور افرادی قوت کم تھی،سیکورٹی کمپنی میں ملازمین کی بھرتی کا نظام بھی انتہائی ناقص ہے، پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم ڈرائیور بھرتی سے قبل خود ہی تصدیقی فارم بھر کر لے آیا تھا جس پر اسے بھرتی کیا گیا۔