مستونگ سے 10نعشیں ملنے کے واقعے کی قومی اسمبلی میں گونج

42

اسلام آباد(صباح نیوز) بلوچستان کے علاقے مستونگ سے10نعشیں ملنے اور انہیں نامعلوم قرا ر دے کر دفن کرنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اُٹھ گیا‘ تحقیقات اور ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کردیا گیا‘جبکہ اراکین نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے وزارت توانائی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے‘ پنجاب میں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا معاملہ قائمہ کمیٹی مواصلات کے سپرد کردیا گیا۔ اجلاس منگل کو امجد علی خان کی صدارت میں ہوا۔ بلوچستان سے رکن عالیہ کامران نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مستونگ میں 10نعشیں برآمد ہوئیں اور انہیں ایک این جی او کی ایمبولینس میں لایا گیا اور دفن کردیا گیا‘ ان کی شناخت اور تحقیقات کیوں نہیں کی گئی‘ صدر نشین نے عالیہ کامران کو ہدایت کی کہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کو اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کریں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ کے پی کے میں 88 کروڑ روپے کی ویکسین کی مشکوک خریداری کی گئی ہے ۔ جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ چترال میں جاری منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے‘مطلوبہ فنڈ جاری نہ ہونے پر عوام سراپا احتجاج ہیں‘ وزیر خزانہ سے درخواست ہے کہ منصوبوں کے لیے فنڈ جاری کریں۔