قانون کی رٹ یا سندھ حکومت کی ضد!

199

حکومت سندھ قانون کی رٹ کے بجائے اپنی خواہشات کی ضد پر عمل درآمد کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ قوانین اصول و ضوابط تو یہ کہتے ہیں کہ بلدیاتی کونسلوں کی مدت ختم ہوجائے تو تین ماہ کے اندر دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرا کے کونسل کا نظام منتخب ہونے والے نمائندوں کے حوالے کردیا جائے۔ مگر دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ صوبائی حکومت مسلسل قوانین کے خلاف حکمرانی کرتے ہوئے مختلف محکموں کو چلا رہی ہے بلکہ عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود خلاف قانون اقدامات سے گریز نہیں کر رہی۔ اسے صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی کہا جائے یا ضد، بات ایک ہی ہے۔ ایسا تاثر ملتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے غلط یا غیر قانونی اقدامات اور احکامات ہی کو قانون کے مطابق سمجھتی ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب قوانین واصولوں پر عمل درآمد نہ ہو تو نظام خراب ہوتے ہوتے تباہ ہو جایا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ اداروں اور وفاق کو قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لیے مجبوراً سخت احکامات جاری کر کے اس پر عمل درآمد کرانا پڑتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری حکومتوں نے جمہوریت پسندی کے دعوؤں کے باوجود کبھی بھی بلدیاتی انتخابات وقت پر نہیں کرائے، جس کی وجہ اسمبلیوں میں موجود حقیقی عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی ہوا کرتی ہے۔ ایسے نمائندے جن کا تعلق سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے ہوتا ہے یا یہ ان میں سے ہوتے ہیں جو ہمیشہ اقتدار کرنے کی خواہش لیکر پرورش پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا عام لوگوں سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہوتا، وہ تو صرف اپنے مفادات کے لیے سیاست کیا کرتے ہیں۔
سندھ کی حکومت نے بلدیاتی اداروں میں آمرانہ نظام رائج کرنے کی ایک بار پھر شروعات کر دی ہیں، اس سے قبل 1994 میں بھی ’’جیالا پارٹی‘‘ نے ایسا ہی کچھ کیا تھا اور پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق رہنما کو جو اس وقت ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی منسلک تھے اور وہ ان کے ایدھی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے، کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا۔ اس وقت مذکورہ پارٹی نے پورا مصنوعی جمہوری بلدیاتی نظام بنانے کے لیے غیر منتخب افراد پر مشتمل مشاورتی کونسل بھی تشکیل دے دی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کو پارٹی کے جیالوں کے حوالے کردیا تھا، پارٹی کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس طرح وہ کراچی کے لوگوں کا دل جیت لیں گے۔ لیکن اس وقت بھی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔ خیال ہے کہ ماضی کی طرز پر آئندہ چند روز میں جیالوں پر مشتمل مشاورتی کونسل بھی قائم کردی جائے گی۔ مگر اس بار ’’کان گھماکر پکڑنا‘‘ کے مترادف کراچی کے سات ضلعی بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز کے اختیارات وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے مقرر کردہ معاونین خصوصی کو دے کر پورے شہر کے بلدیاتی اداروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی ممکن ہے کہ مذکورہ ڈسٹرکٹ اور ڈسٹرکٹ کارپوریشنوں کے لیے مقرر کردہ معاونین خصوصی متعلقہ اضلاع میں ازخود مشاورتی کونسل تشکیل دیں اور پھر ساتوں اضلاع سے ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا شور مچایا جائے۔ اس نعرے کے برعکس حقیقت تو یہی ہے کہ بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اب آخری ہچکیاں لے رہی ہے اگر یوں کہا جائے تو بھی بہتر ہوگا کہ اس پارٹی کی کیفیت کورونا کے تشویش ناک مریض کی حالت کی طرح ہوگئی ہے جان بچانے کے لیے وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے۔
پیپلزپارٹی کو بھی بچانے کے لیے کراچی کی آب و ہوا کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس لیے اسے کراچی کی ہوا کھلانے اور یہاں مصنوعی سانسیں فراہم کرنے کے واسطے کراچی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کراچی اور کراچی والے اس بیمار پاکستان پیپلز پارٹی کا علاج کرتے ہیں یا پھر اس سے ہمیشہ کے لیے معذور اور مفلوج کرکے چھوڑتے ہیں۔ فکر کی بات تو یہ ہے پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی پاکستان، متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے ٹوٹنے سے وجود میں آنے والی پاک سرزمین پارٹی کی مخالفت کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پہلے کراچی کے لیے اپنے جیالے مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی بنایا اور پھر دیگر جیالوں کو کراچی پر مسلط کرنے کے لیے انہیں وزیراعلیٰ کا ضلعی معاون خصوصی بنا کر ضلعی بلدیاتی ادارے کے سپرد کردیے۔ یہ عمل قوانین کا مذاق اڑانے کے ساتھ وزیراعلیٰ کے اہم ترین عہدے کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔ خوش فہمی ہے کہ اہم عہدوں کے ساتھ ایسا مذاق کرنے پر عدالت عظمیٰ اور وفاقی حکومت ضرور نوٹس لے گی۔