غیر قانونی تعمیرات منہدم کرنے کیلیے کسی قسم کا دبائو قبول نہیں ، آصف میمن

67

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی آصف علی میمن نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں شہر بھر میں کے ڈی اے اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے لیے بہتر حکمت عملی کے ساتھ آپریشن شروع کیا جائے، اس ضمن میں کسی قسم کے دبائو کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ ڈائریکٹر لینڈ، ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ اور ایگزیکٹو انجینئرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے جو کے ڈی اے اسکیم کا احاطہ، قبضہ اور فری لینڈ کی رپورٹ سروے کرکے ایک ہفتے میں پیش کرے ۔ یہ بات ڈی جی کے ڈی اے نے کانفرنس روم میں اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شہر کراچی کی ترقی اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام تر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات پر یقین اور باہمی تعاون و اتفاق سے شہریوں کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں کرپٹ افسران کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ ادارے میں موجو دایسے عناصر جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں وہ فوری طور پر قبلہ درست کرلیں، ادارے کے ساتھ تعاون اور ادارے کی نیک نامی ہم سب کی ذمے داری ہے، اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کے ڈی اے افسران و ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ عوام کو بداعتمادی کی فضا سے باہر نکالنے کے لیے مشاہدہ کیا جائے کہ عام صارفین کو بہترین سہولیات کی فراہمی کس طرح ممکن بنائی جائے۔ ادارہ ترقیات کراچی ماضی میں ایک شاندار اور روشن ادارہ رہا ہے، شہر کراچی کے لیے کے ڈی اے کی خدمات اور کام کا معیار ملکی سطح پر تسلیم شدہ ہے، حکومت سندھ کا اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ادارے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔ ادارہ ترقیات کراچی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، مثبت سوچ، باہمی اتفاق اور تعاون سے مستحکم و بہتری کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں جبکہ ادارہ کے اخراجات میں کمی کے لیے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ادارہ کی آمدن میں اضافہ کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔