افغانستان کا آسیب

295

افغانستان میں 20 برس تک جنگ کے بعد برطانوی فوجوں کی واپسی پربرطانیہ کو افغانستان میں جن مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک سنگین مسئلہ افغان مترجموں کا ہے جو آسیب کی طرح برطانوی حکومت کا تعاقب کر رہا ہے۔ یہ افغان مترجم جنگ کے دوران افغانستان میں برطانوی فوجوں کی مدد کرتے رہے ہیں اور اب انہیں طالبان سے جان کا خطرہ ہے۔ افغانستان سے واپس آنے والے برطانوی فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ طالبان گھر گھر جا کر ان افغان مترجموں کو تلاش کررہے ہیں اور ان سے بدلہ لینے کے لیے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانوی حکام کو خطرہ ہے کہ برطانیہ میں آباد افغان مترجموں کو بھی اس نوعیت کا اندیشہ ہے۔
برطانوی فوجی افسروں کے دبائو کے تحت برطانوی حکومت نے 3 ہزار افغان مترجموں اور ان کے خاندان کے افراد کو برطانیہ میں بسانے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن سابق برطانوی فوجی افسروں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کئی سو افغان مترجموں کی برطانیہ میں آباد ہونے کی درخواست مسترد کردی گئی ہے وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان افغان مترجموں کی افادیت محدود ہے افغان مترجموں کی تعداد 6 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
افغانستان کا یہ آسیب صرف برطانیہ تک محدود نہیں بلکہ امریکا بھی اس کی زد میں ہے۔ اس آسیب کے پیش نظر امریکا نے بھی افغان مترجموں کے لیے خاص ویزا کے اجرا کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 20 ہزار افغانوں نے درخواست دی ہے لیکن اب تک صرف 4 ہزار افغانوں کو ویزا جاری کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا برطانوی حکومت نے افغانستان میں سیکورٹی کی ابتر صورت حال کے پیش نظر تمام برطانوی شہریوں کو افغانستان سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔ جمعہ کے روز برطانوی دفتر خارجہ نے برطانوی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کا سفر اختیار نہ کریں کیونکہ افغانستان میں دہشت گرد حملوں اور اغوا کی وارداتوں کا خطرہ ہے۔
جمعہ کے روز طالبان نے کابل میں افغان حکومت کے میڈیا مرکز کے ڈائریکٹر کو ہلاک کر دیا تھا اور اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ طالبان نے اسی روز نمروز صوبہ کے اہم شہر زرانج پر قبضہ کر لیا اور طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے زرانج کی جیل سے قیدیوں کو رہا کر دیا ہے اور زرانج کے صوبائی انٹیلی جنس ہیڈ کوراٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔ نمروز کا صوبہ ایران اور پاکستان کی سرحد سے ملحق ہے جنگ میں تیزی کی صورت میں اس راستہ سے افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے خاص سفیر برائے افغانستان نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ نہایت مہلک دور میں داخل ہو گئی ہے۔ پچھلے ایک مہینہ کے دوران ایک ہزار افراد جنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جس برق رفتاری سے طالبان افغانستان کے اہم صوبوں پر قبضہ کر رہے ہیں وہ بلا شبہ باعث تشویش ہے۔