افغانستان پر سلامتی کونسل اجلاس میں مدعو نہ کرنے پر پاکستان کی مذمت

89

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کے نمائندے کے گمراہ کن پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلے پر قریبی ہمسائے پاکستان کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں مدعو نہ کرنا ،پلیٹ فارم کو پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال ہونے دینا قابل مذمت اور افسوسناک ہے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے تنازع کشمیر پر اپنے موقف کی توثق خوش آئند ہے ۔ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چودھری نے بیان میں کہاکہ پاکستان نے افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث کا بغور مشاہدہ کیا ہے ،افغانستان کے قریب ترین ہمسائے کے طورپر پاکستان کو اس بحث میں مدعو ہونے سے روکنا افسوسناک ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ عالمی برادری افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرچکی ہے ،زاہد حفیظ نے کہاکہ صدر سلامتی کونسل نے اجلاس میں پاکستان کو اپنا نکتہ نظر اور تجاویز پیش کرنے سے روکا ،سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال ہونے دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہم اجلاس میں افغانستان کے نمائندے کے گمراہ کن پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات سختی سے مسترد کرتے ہیں اورپاکستان نے سلامتی کونسل کے ارکان کو اس معاملے پر اپنے نکتہ نظر اور موقف سے آگاہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بین الافغان مذاکرات کے ٹھوس نتیجے پر پہنچنے سے قبل اور امریکی و نیٹو افواج کے انخلاکی تکمیل کے قریب افغانستان میں بڑھتے تشدد پر شدید تشویش ہے،افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر پاکستان کو شدید تشویش لاحق ہے ،تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ انسانی وعالمی قوانین کے احترام کو یقینی بنائیں،تمام افغان فریقین پر زور دیتے ہیں کہ فوجی طرز عمل سے اجتناب کریں۔علاوہ ازیںترجمان زاہد حفیظ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جموں و کشمیر تنازع پر اقوام متحدہ کا موقف برقرارہے اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان درست وقت پر آنا خوش آئند ہے کیونکہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال مکمل ہوچکے ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اورچوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔