پاک افغان دوطرفہ تجارت پر آنچ نہیں آنے دینگے، عبدالخالق ایوب

56

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) افغان قونصلیٹ کے سکینڈ سیکرٹری عبدالخالق ایوب نے کہا ہے کہ پاک افغان دوطرفہ تجارت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اسپین بولدک میں ہمیں سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ وہاں مخالف گروپ قابض ہے، جلد ہی افغان حکومت اس مسئلے کو حل کرائے گی، ہم دوطرفہ تجارت کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے، حکومتی سطح پر دوطرفہ تجارت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے سینئر نائب صدر حاجی عبداللہ اچکزئی، نائب صدر حاجی اختر کاکڑ و دیگر نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس سلسلے میں تجارت پیشہ افراد کو دونوں ہمسائیہ ممالک میں مشکلات کا سامنا ہے، ایک طرف بارڈر کی بندش آڑے آ رہی ہے تو دوسری جانب سہولیات کا فقدان دوطرفہ تجارت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق دائود کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کے ساتھ بارڈر مارکیٹ کا مسئلہ زیر بحث آیا تو انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان اقدامات کیلیے تیار ہے لیکن افغان حکومت راضی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے دونوں ممالک کے درآمد اور برآمد سے وابستہ افراد مالی مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں، عین زرعی سیزن میں بارڈر کی بندش تشویشناک ہے ، اس وقت بارڈر کے دونوں طرف سیکڑوں کنٹینرز خالی اور مال سے لدی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں حالات چاہے جیسے بھی ہوں تجارت پر قدغن نہیں لگنی چاہیے، دوطرفہ تجارتی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے حکام صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کی سہولیات کیلیے اقدامات اٹھائیں۔ چمن، بادینی اور قمرالدین کے علاقوں میں مشترکہ بارڈر مارکیٹ کا قیام دونوں ممالک کے تجارت پیشہ افراد کیلیے مزید مواقع کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، ڈبل ٹیکس بھی دوطرفہ کاروبار کی راہ میں حائل ہو رہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے۔ قانونی تجارت کا فروغ ہمارا نصب العین ہے تاہم سہولیات کا فقدان اس سلسلے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا مؤجب بن رہا ہے جب قانونی دستاویزات رکھنے والی گاڑیوں کو بے جا تنگ کیا جائے گا تو لوگ اسمگلنگ کی طرف راغب ہوں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ دستاویزات رکھنے والی مال بردار گاڑیوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ افغان قونصلیٹ کے سیکنڈ سیکرٹری عبدالخالق ایوب کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے متعلق اعلیٰ حکام سے بات چیت کی جائے گی بلکہ انہیں ان تک پہنچانے کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ہم ہر مشکل وقت میں تجارت پیشہ افراد کے ساتھ ہیں، افغانستان کی سیکورٹی صورتحال سب کے سامنے ہے حکومتی سطح پر ہم تجارت کی راہ میں کسی قسم کے مشکلات برداشت نہیں کریںگے۔