ٹک ٹاک بند کرنا حل ہے تو گوگل بھی بند کردیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

84

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نوٹس کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا عدالت نے پی ٹی اے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی بندش سے متعلق مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ ضابطہ کار بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے مشاورت کا حکم دیا دوران سماعت عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل منور دوگل سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کو کیوں بند کیا؟کیا پی ٹی اے پاکستان کو باہر دنیا سے منقطع کرنا چاہتی ہے؟ اگر ٹک ٹاک بند کرنا ہی واحد راستہ ہے تو پھر تو گوگل بھی بند کریں یہ 21 ویں صدی ہے‘ اس میں لوگوں کا ذریعہ معاش سوشل میڈیا ایپلی کشن سے جڑا ہے جس پر پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ نے پابندی لگانے اور میکنزم بنانے کا کہا تھا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ نے پورے ملک میںٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا تھا؟ جس پر وکیل پی ٹی اے نے پشاور اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں عدالتوں نے کہیں نہیں کہا کہ آپ ٹک ٹاک کو مکمل طور پر بند کریں ایسی وڈیوز تو یوٹیوب پر بھی اپلوڈ ہوتی ہیں، تو آپ یوٹیوب کو بھی بند کریں گے آپ لوگوں کو گائیڈ کریں کہ غلط چیزیں نہ دیکھیں، ایپس تو معاش اور انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہیں آپ نے دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو غلط استعمال کیا، میکنزم کا کہا گیا تو آپ میکنزم بنائیں آپ کے پاس کیا اختیار ہے کہ آپ ٹک ٹاک مکمل بند کررہے ہیں؟ کیا کبھی پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کے فوائد اور نقصانات پر ریسرچ کی؟ پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک میں ٹک ٹاک بند ہے‘ بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی سیکورٹی کی وجہ سے لگائی گئی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ بھارت نے ٹک ٹاک پر پابندی سیکورٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ چین کی کمپنی ہونے کی وجہ سے لگائی‘ کیا پی ٹی اے بھارت کے ساتھ ہے؟ پی ٹی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو پیکا ایکٹ کے تحت بلاک کیا‘ ٹک ٹاک ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہا، اسی وجہ سے ہم نے بند کیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سوچ بدلیں مستقبل کے لیے تیار رہیں‘ آپ نے پیچھے نہیں جانا آپ ڈیجیٹل دنیا میں رہ رہے ہیں۔ وکیل مریم فرید نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی اے نے جس پریس ریلیز کیذریعے ٹک ٹاک پر پابندی عاید کی اس پریس ریلیز کو معطل کیا جائے، عدالت پی ٹی اے کو ٹک ٹاک پر پابندی ہٹانے کا حکم دے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت سے پوچھے بغیر پی ٹی اے کو پابندی لگانی ہی نہیں چاہیے تھی۔عدالت نے کیس کی سماعت 23 اگست تک کے لیے ملتوی کردی ۔