ایران اور اسرائیل کے درمیان بیان بازی میں شدت ، جنگ کی دھمکیاں

99

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل اور ایران کے درمیان بیان بازی میں شدت آنے لگی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی وزیردفاع نے اپنے بیان میں عمان کی ساحلی حدود میں اسرائیلی آئل ٹینکرپر ڈرون حملے کے بعد ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بینی گینٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران حکومت لبنان، غزہ، شام، عراق اور یمن میں خود کو منظم کررہی ہے، ہم ایسے فیصلہ کن موڑ پر ہیں ، جہاں ہمیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کوئی فوجی کارروائی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جاے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ایران پر حملے کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان سعید خلیل زاد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسرائیل کا مغرور رویہ مغربی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ خطے میں کیے گئے حملوں میں ایرانی ڈرون طیاروں کا بڑھتا ہوا کردار سامنے آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں آخری کارروائی میں خلیج میں اسرائیلی بحری آئل ٹینکرمیرسر سٹریٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ صہیونی میڈیا کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران ڈرون طیاروں پر مشتمل اسلحہ خانہ بنا کر انہیں یمن، عراق، شام اور لبنان میں اپنی ملیشیاؤں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ ان ایرانی ڈرون طیاروں کو حماس کے اسرائیل کے خلاف حملوں، سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں اور حزب اللہ کے عراق اور شام میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کے خلاف حملوں میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایران ڈرون طیاروں کی ٹکنالوجی کو خود استعمال کرنے کے بجائے خطے میں اپنے ایجنٹوں اور ملیشیاؤں کو یہ طیارے بھیج دیتا ہے۔ ڈرون طیارے ایک اچھا ہتھیار شمار ہوتے ہیں جو حملوں سے لا تعلقی کے اعلان کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان طیاروں کو بھیجنے والے ذرائع کا انکشاف مشکل ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع بین گینٹس نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ عالمی سلامتی کونسل میں سفیروں کو آگاہ کر چکے ہیں کہ حالیہ حملے کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب میں ڈرون طیاروں کے یونٹ کا ذمے دار سعید ارجانی ہے۔ انہوں نے کہاک ہ تل ابیب ایران پر فوجی ضرب لگانے کے لیے تیار ہے۔ دنیا کو تہران کے ساتھ عسکری طریقے سے نمٹنا ہو گا ، تا کہ اس خطرے کی کہانی انجام تک پہنچا دی جائے۔ ادھر وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان جین ساکی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا عالمی برادری تہران کے رویے پر فکرمند ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔