حساس معلومات کیس‘ ان کیمرہ ٹرائل کیلیے فریقین کونوٹس

61

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے غیرملکی خفیہ ایجنسی کو حساس معلومات کی فراہمی کیس میں گرفتار سابق فوجی افسر سمیت دیگر9افراد کے خلاف ان کیمرہ ٹرائل کی درخواست میں فریقین کو جواب کیلئے نوٹس جاری کردیا۔گرفتار لیفٹیننٹ کرنل (ر) عرفان حمید کیانی سمیت دو افراد کی درخواست ضمانت اور وفاق کی طرف سے ان کیمرہ سماعت کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت کو بتایاگیاکہ غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹس کو حساس معلومات فراہم کرنے کے کیس میں 9 ملزمان گرفتار کیے گئے اور ملزمان کے زیر استعمال الیکٹرونک ڈیوائسز فرانزک کے لیے لیب بھجوا دی گئیں،وفاق کی طرف سے استدعاکی گئی کہ حساس معلومات جوڈیشل ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں اس لیے سماعت ان کیمرا کی جائے،جبکہ ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پٹیشنرز ایف آئی آر میں نامزد نہیں، نامزد ملزمان کے بیان پر 13 جولائی کو گرفتار کیا گیا،گھر پر چھاپا مار کر الیکٹرونک ڈیوائسز سمیت 39 آئٹمز قبضے میں لیے گئے،ملزم صفدر رحمان کے جسمانی ریمانڈ کے دوران دیے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،پٹیشنر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بیوی اور وکیل سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی گئی، ایف آئی اے نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت 18مئی2021ء کو مقدمہ درج کیا،ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، درخواست گزار کی عمر 69 سال ہے جس کی پانچ نسلوں نے ملٹری میں خدمات انجام دیں،گرفتار ملزمان میں صفدر رحمان، تنزیل الرحمان، محمد وقار ، محمد اشفاق،محمد طاہر،مجتبیٰ حسین، محمد اشرف، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان حمید کیانی اور احمد کیانی بھی گرفتار ملزمان میں شامل ہیں، عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت10 اگست تک کیلئے ملتوی کردی۔