کراچی میں جعلی کورونا سرٹیفکیٹ کے اجرا کا دھندہ عروج پر

167

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) کراچی میں طبی عملہ کی ملی بھگت سے 4 ہزار روپے کے عوض کورونا ویکسین لگوائے بغیر جعلی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے‘ کراچی میں کورونا وبا کے کیسز میں اضافے اور ویکسین نہ لگائے جانے پر سختیوں کے بعد جہاں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے وہیں جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ یا جعلی انٹری کے متعدد کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان واقعات سے نہ صرف دوسرے شہریوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں بلکہ ملک میں جاری سرٹیفکیٹ مشکوک ہونے کے باعث بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کراچی ایکسپو سینٹر سمیت مختلف کورونا ویکسی نیشن مراکز میں ویکسی نیشن سینٹر پر مامور طبی عملے کی ملی بھگت سے ویکسین لگائے بغیر شہریوں کی نادار میں رجسٹریشن کی جا رہی ہے اور انہیں ویکسین لگائے بغیر نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اٹھارٹی(نادار) سے سرٹیفکیٹ بھی جاری کرایا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں طبی عملہ4 ہزار روپے کے عوض ویکسین لگائے بغیر نادرا کے سسٹم میں انٹری کر رہا ہے۔ ذارئع نے بتایا کہ بعض شہریوں کا اصرار تھا کہ وہ ویکسین کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے ویکسین نہیں لگوانا چاہتے تاہم فضائی سفر اور موبائل سم بلاک ہونے سے بچنے کے لیے انہیںسرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم ویکسی نیشن سینٹر میں موجود ڈیٹا انٹری کرنے والے ایک کنٹریکٹ ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جسارت کو بتایا کہ ہم یہاں ایکسپو سینٹر میں کئی ماہ سے شہریوں کا ڈیٹا انٹری اور ویکسی نیشن کر رہے ہیں لیکن سندھ حکومت کی جانب سے جو ماہانہ18ہزار روپے تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا ہمیں اب تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں جس پر ہم نے گزشتہ ماہ ایکسپو سینٹر میں احتجاج کرتے ہوئے ڈیٹا انٹری اور ویکسی نیشن کرنا بند کر دیا تھا تاہم حکومت سندھ کی جانب سے اگست کے مہینے میں تنخواہ دینے کی یقین دہانی پر ہم نے پھر سے کام شروع کردیا تھا لیکن حکومت نے اپنے کیے ہوئے وعدے پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا ہے‘ اگر سندھ حکومت نے ہم سے کیے گئے وعدے کو پورا نہیں کیا تو ہم ایک بار پھر ڈیٹا انٹری اور ویکسی نیشن کرنے کے عمل کو موخر کر دیںگے۔ انہوں نے کہا کہ جب سرکار کو ورکرز کا خیال نہیں ہے تو پھر ورکرز پیسوں کے عوض اسی طرح کا کا م کریںگے جس کے بارے میں آپ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ ابھی تک وزارت کو ایسے کسی کیس کی شکایت نہیں ملی جس میں ویکسین لگوائے بغیر نادرا کے سسٹم میں جعلی اندراج کیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین لگوانے کے لیے شہریوں کو پہلے 1166 پر اندراج کرنا ہوتا ہے جس پر انہیں کوڈ آتا ہے پھر وہ دونوں خوراکوں کے لیے الگ الگ سینٹرز پر جاتے ہیں جہاں انٹری کر کے تصدیق کی جاتی ہے اور پھر ویکسین لگوائی جاتی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اٹھارٹی (نادرا) کی ترجمان ناز شعیب کا کہنا ہے کہ جعلی اندراج روکنے کے حوالے سے تو وزارت صحت اقدامات کرتی ہے تاہم نادرا نے اپنے سسٹم کو جدید ترین خطوط پر استوار کر کے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ایک عام شخص بھی اپنے فون سے کسی بھی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے اصلی یا جعلی ہونے کا پتا لگا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نادرا کے سسٹم سے جاری ہر ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پر ایک کیو آر کوڈ ہوتا ہے جسے موبائل کے کیمرہ سے سکین کیا جائے تو اس پر سرٹیفکیٹ کے اصل مالک کا نام، پاسپورٹ نمبر اور دیگر کوائف سامنے آ جاتے ہیں اس طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی کسی اور کے سرٹیفکیٹ پر جعل سازی سے اپنا نام وغیرہ درج کرکے کام چلا لے تاہم نادرا اور وزارت صحت کے دعووں کے باوجود کراچی میں میں پیسوں کے عوض کورونا ویکسین لگوائے بغیر جعلی سرٹیفکیٹ کا دھندہ عروج پر ہے۔