لاک ڈائون کیخلاف اسمال ٹریڈرز کا احتجاج،ایس ایچ اوز سے ڈپٹی کمشنرز اختیارات واپس لینے کا مطالبہ

77

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے مرکزی رہنما محبوب اعظم نے کہا ہے کہ ہم کسی صورت شہر کو پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے ، حکومت ایس ایچ اوزسے ڈپٹی کمشنر کے اختیارات واپس لے ،شہر میں پولیس کی زیادتیوں ،تاجروں پر تشدد اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں معاشی استحصال بند نہ ہوا تو وزیر اعلی ٰ ہائوس کا گھیراؤ کریں گے ۔ پولیس کے مظالم گرفتار یاں ، تشدد اور ظلم نے کراچی کو مقبوضہ علاقہ بنا دیا ہے ۔ ہمیں لاک ڈاؤن کی آڑ میں فاقہ کشی کے بعد جشن آزادی منانے سے روکا جا رہا ہے پاکستانی جھنڈوں پر مبنی سامان مارکیٹوں سے نکالنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ پولیس تاجروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہی ہے۔ مارکیٹ کے اندر گھس کر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔سندھ حکومت نے کورونا کے نام پر ظلم کی انتہا کر دی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے ٹیکس معاف کرے۔ وہ گزشتہ روز لی مارکیٹ پر لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے۔ مظاہرے سے کراچی ڈویژن کے صدر محمود حامد، کنفکشنری ایسوسی ایشن کے رہنما جاوید حاجی عبداللہ، محمد شریف ، ناز پلازہ الیکٹرونک مارکیٹ کے صدر نوید احمد ، عثمان شریف ،محمد حنیف ، محمد ربان اور دیگر تاجر رہنماؤں نے خطاب کیا ۔محمود حامد نے مطالبہ کیا کہ بیرون ممالک سے ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد بے روزگار اور فاقہ کش تاجروں اور محنت کشوں پر خرچ کی جائے ، ظلم اور زیادتی بند کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ تاجر اس ملک کے معزز شہری ہیں ان کے پیچھے پولیس کو لگانا کہاں کی شرافت ہے ،کورونا کے نام پر صوبے میں ڈراما کیا جارہا ہے ۔کراچی اور حیدرآباد کو بند کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تاجر اور مزدور فاقہ کشی کا شکار ہیں جبکہ صوبے کے چھوٹے شہر پوری طرح کھلے ہوئے ہیں کیا کورو نا صرف کراچی اور حیدرآباد کے بازاروں میں پھیلنے کا ڈر ہے۔ جاوید عبداللہ نے کہا حکومت کے ویکسین سینٹرز میں ہزاروں لوگوں کا مجمع جمع ہے کیا وہاں کورو نا نہیں ؟ عوام کو پریشان کیا جا رہاہے ، ویکسین نہ لگوا نے پر سم بند اور این آئی سی بلاک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے10 روز کے لیے کاروبار بند کر دیا لیکن اس غریب کے لیے کیا سوچا جو روز دیہاڑی ملنے کے بعد بچوں کے لیے آ ٹا گھر لے جاتاہے۔ عثمان شریف نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں جشن آزادی منانے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں ،لاک ڈائون کی وجہ سے تاجروں نے جو جھنڈیاں، بیجز، قومی پرچم والے بابا بے بی سوٹس اور دیگر سامان جو آزادی کے موقع پر پہننے جاتے ہیں تیار کیے ہیں ان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، اس مال کو پولیس مارکیٹوں سے نکالنے نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جشن آزادی کا سامان بیچنے والے تاجروں کو دکانیں کھولنے کی اجازت دیں ۔ مارکیٹوں کے اندر پولیس کے جارحانہ آپریشن کو بند کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی مارکیٹں اس وقت مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہی ہیں اور ہر طرف پولیس لاٹھی اور بندوقیں لیے کھڑی ہے ،تاجروں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے ،دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی سی دکانوں کو معمولی باتوں پر سیل کر رہے ہیں، لاک ڈاؤن میں کاروباری مندی میں لاکھوں روپے جرما نے تاجر کیسے ادا کرے گا۔ مظاہرے کے دوران مظاہرین نے لاک ڈائون مردہ باد، پولیس گردی مردہ باد ، تاجر اتحاد زندہ باد ، غریب کا چولھاجلنے دو ، پولیس اسٹیٹ نا منظور کے نعرے لگائے ، مظاہرین بعد میں پُرامن طورپر منتشر ہو گئے ۔