بھارت مکمل ہندو ریاست بن چکا ،مسلمان شودر سے بھی بدتر زندگی گزاررہے ہیں

220

کراچی (رپورٹ/ محمد علی فاروق) بھارت آج ہندوتوا ریاست میں تبدیل ہوکر پوری دنیا میں عدم برداشت کے حوالے سے سب سے بڑی پرتشدد ریا ست بن چکا ہے، اب تو حالت یہ ہوچکی ہے کہ بھارت کی بڑی آبادی ہونے کے ناطے مسلمانوںکو نچلی ذات کے ہندوؤں سے بھی کم مراعات دی جاتی ہیں، آج کا مسلمان بھارت میں سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے ہندوؤں کی سب سے نچلی ذات شودر سے بھی بدتر ہوگیا ہے اور شودر بھی مسلمانوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، بی جے پی کا ہندو توا ایجنڈا روز بروز بڑھ رہا ہے، کوئی بھی شخص آزاد ہے اور نہ ہی اپنے رسوم و رواج، مذہب، عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے، مسلمانو ں کے ساتھ بھارت میں ایسا ہی ظلم ہو رہا ہے جیسا کبھی مشرکین مکہ نے نبی مکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا تھا، بھارت کی بیوروکریسی، فوج، عدلیہ میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، متعصب ہندو برملا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاںکر رہے ہیں اور ان کا ایجنڈا یہی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا رہنا دشوار بنا دیا جائے، کشمیر اور پاکستان سے نفرت کے باعث بھی بھارت کے مسلمان زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے ہیں ریاستی سطح پر بھی ہندوؤںکو تحفظ فراہم کیا جا رہاہے، ظلم وذیادتی اور پر تشدد واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ہندوؤں نے مسلمانوں پر سیکڑوں حملے کیے اور ہزاروں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ ان خیالا ت کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر معراج الہدی، جامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن پرو فیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم اور برطانیہ میں مقیم معروف بھارتی دانشور فہیم اختر نے جسارت سے خصوصی گفتگو میں کیا۔ معراج الہدی صدیقی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ان کے تمام ساتھیوں کے خدشات اپنی جگہ پر ایک عملی روپ دھا ر رہے ہیں کہ بھارت میں مسلمانو ں کیلیے آج بقاء کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، ہندوتوا ایجنڈا روز بڑھ رہا ہے، مسلمانوں کو مذہبی دن منانے سے روکا جارہا ہے، مسلمان وندے ماترم نہیں پڑھتے اس میں غیراللہ کا ذکر موجود ہے جبکہ بھارت میں مسلمانوں کو یہ پڑھنے پر مجبو کیا جارہا ہے، مسلمانوں کو رسوم و رواج عقیدے اور مذہب سمیت کسی قسم کی کوئی آزادی نہیں دی جارہی ایسا صرف مسلمانوںکے ساتھ ہی نہیںہو رہا بلکہ عیسائی، بدھ اور سکھ مذہب کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے، بھارت میں عدم برداشت ختم ہوتا جارہا ہے اکثریت اس ایجنڈے پر عمل کررہی ہے کہ کسی کو بھی اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق نہ دیا جائے۔ معراج الہدی نے کہا کہ وہ پہلو جو گاندہی کی سیکو لر ریاست کا نظریہ تھا آج ہندوتوا ریا ست میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے فرج سے اگر گوشت نکل آئے تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے چاہے وہ گوشت بکرے کا ہی کیوں نہ ہو، یہ بھی حیران کن بات ہے کہ جو بھارت گئو ماتا کو عوامی سطح پر ذبح کرنے کی مخالفت کرتا ہے وہ تجارتی میدان میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا ایکسپوٹر کہلا تا ہے، ایکسپورٹ کیلیے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے، بس مسلمانوں کو ہر موقع پر خوف زدہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جب مسلمانو ں کے خلاف پرتشدد واقعات دکھائی دیتے ہیںتو قائداعظمؒ کی اس سوچ کو دل سے تسلیم کر تا ہوں کہ انہوں نے اس صورت حال کو بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور آج کے پاکستان میں اللہ کا شکر ہے کہ ہم مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں اور ہندو، سکھ سمیت تمام مذاہب کے لوگ بھی آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ بھارت اب ایک مکمل ہندو ریاست میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں دیگر مذاہب کیلیے کو ئی گنجائش نہیں ہے، متعصب ہندو برملا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کاروائیاںکر رہے ہیںاور ان کا ایجنڈا بھی یہی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا رہنا دشوار بنا دیا جائے۔ آج کا مسلمان بھارت میں سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے شودر سے بھی بدتر ہوگیا ہے، بی جے پی مسلمانوںکے خلاف پر تشدد واقعات اور نفرت پھیلا کر مزید پاپو لر ہورہی ہے جبکہ مسلمانو ں کے ساتھ بھارت میں ایسا ہی ظلم ہو رہا ہے جیسا کبھی مشرکین مکہ نے نبی مکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر بھارت ایک سیکولر ریاست تھا جس میں تمام مذاہب کے حقوق شامل تھے مگر کانگریس حکومت نے وہاں جو پالیسی رائج کی ہے اس میں مسلمانوں کو کبھی بھی برابری کے حقوق نہیں دیے گئے اور شروع دن سے ہی مسلمانوں کا استحصال کیا جاتا رہا ہے، بھارت کی بیوروکریسی، فوج، عدلیہ میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، عملی طور پر سوسائٹی نے کبھی بھی مسلمانوں کو قبول نہیں کیا، نچلی ذات شودر بھی مسلمانوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ خاص طور پر بی جے پی حکومت بننے کے بعد مسلمانوں پر مظالم بڑھ گئے ہیں اور ریاستی سطح پر ہندو مذہب کو اہمیت دی جانے لگی ہے، شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک طویل عرصے برصغیر پر حکومت کی ہے جبکہ کشمیر اور پاکستان سے نفرت کے باعث بھی بھارت کے مسلمان زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم معروف بھارتی دانشور فہیم اختر نے کہا کہ بٹوار ے کے بعد سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوںکا ہمیشہ سے سیاسی، معاشی اور سماجی مسئلہ بنا رہا ہے، اس دور میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر سیکڑوں حملے کیے اور ہزار وں ہندو مسلم فسادات ہوئے، مسلمانوں کا بھارت میں ہمیشہ استحصال کیا جاتا رہا ہے، مگر گزشتہ 10 سال کے دوران بی جے پی کی حکومت نے مسلمانوں کو ہر طرح الجھا کر رکھا ہوا ہے ایک خاص طبقہ بھارتی جنتا پارٹی جو ہندوتوا پر یقین رکھتا ہے نے خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہوا ہے، معاشی اور سماجی سطح پر بھی بھارت میں مسلمانوںکے بے شمار مسائل ہیں، حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور بھارت میں مسلمانوں کا اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کیا جارہا ہے، سوشل میڈیا پر اکثر دیکھا گیا کہ ہندو اکثریتی علاقوں سے مسلمانوں کو کاروبار بھی نہیں کرنے دیا جاتا، ظلم وزیادتی اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ ناروا سلوک صرف مسلمانو ں کے ساتھ ہی نہیںہوتا بلکہ دوسری اقلیتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ رکھا جا تا ہے، عام طور پر بھارت کے مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچائی جارہی ہے جس سے مسلمانوں میں بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔