ـ8 سال سے لاپتا شہری کو ازخود غائب قرار دینے پر لواحقین کا احتجاج ،کمیشن کا دوبارہ تلاش کا حکم

234

کراچی (رپورٹ: خالد مخدومی) چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی سربراہی میں جبری طور لاپتا کیے گئے افراد کی تلاش کے لیے بنائے گئے کمیشن پر نامعلوم دبائو کے شواہد سامنے آئے گئے، کمیشن نے طویل عرصے سے لاپتا افراد کو گھر سے ازخود فرار قرار دے کرکیس ختم کرنے شروع کردیے، لاہور سے لا پتا ہونے والے دانش عقیل انصاری سمیت متعدد افراد کو ازخود غائب قرار دینے پر لواحقین سراپا احتجاج بن گئے، کمیشن نے دانش کے بھائی کے دلائل پرکیس دوبارہ شروع کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ تفصیلات کے مطابق 2011ء میں عوامی شکایات اوردبائو پر حکومت کی جانب سے جبری طور پر لاپتاکیے گئے افراد کی تلاش کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیاتھا جس کی سربراہی قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کررہے ہیں، کمیشن کا ایک اجلاس رواں ماہ کی 2تاریخ کو لاہور کے ایوان اقبال میں ہوا ،کمیشن کے رکن سابق انسپکٹر جنرل پولیس کے پی کے شریف ورک کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ جبری طور پر لاپتا افرا د کی تلاش کے لیے بنایا گیا کمیشن خود نامعلوم جبر اور دبائو کا شکارہے ،اجلاس میںکمیشن کے سامنے جبری لاپتا12 افراد کے لواحقین شریک ہوئے جن میں بیشتر کے معاملے پر یہ فیصلہ دیاکہ ان افراد کو لاپتا کیے جانے میں کسی سرکاری ایجنسی یا ادارے کا ہاتھ نہیں ہے، اس موقع پر متعدد افراد کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ کمیشن اپنے فیصلے آزادنہ طور پر کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور اس کے فیصلوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ کسی نامعلوم دبائو کو شکار ہے، 27 اگست 2013ء کو لاہور سے لاپتا ہونے والے دانش عقیل انصاری کو کمیشن کی جانب سے ازخود لاپتا ہونے کا فیصلہ دیا تو ان کے بھائی منیر عقیل انصاری نے سخت مؤقف اختیار کیا کہ 8سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اب کمیشن اس بات فیصلہ کررہاہے جس پر کمیشن کے ایک رکن نے کہاکہ تمام ایجنسیوں نے دانش عقیل کو گرفتار کر نے کی تردید کی ہے اور درخواست گزار نے بھی کسی ایجنسی کے اس میں ملوث ہونے کا ذکر نہیںکیا ، جس پر منیر عقیل انصاری نے یہ بات غلط ہونے کی تردید کی اور کہاکہ ان کی درخواست میں واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ ان کے بھائی کے لاپتاہونے کے بعد سادہ لباس میں 2 افراد ان کے گھر آئے تھے جنہوں نے اپنا تعلق ایم آئی سے بتایا تھا اوراعتراف کیا تھاکہ دانش کی ان کی تحویل میں ہے، منیر عقیل انصاری کی درخواست پراجلاس میں موجود کمیشن کے ایک اور رکن نے سرکاری ریکارڈ میں موجود ان کی درخواست اجلاس میں پڑھ کرسنائی جس میں اس بات کاواضح طور پر موجود تھا اس موقع پرکمیشن نے دانش عقیل انصاری کے معاملے کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر منیر عقیل انصاری کے دستخط موجود نہیں ہیں اس لیے وہ اجلاس میں شرکت کے اہل نہیں ہیں جس پر درخواست گزا رکی جانب سے کمیشن کو بتایا گیا کہ درخواست پر ان کے بھائی کے دستخط ہیں جس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ دانش کے دونوں بھائیوں میں سے کوئی بھی اجلاس میں شریک ہوسکتا ہے، اس موقع پر منیر عقیل انصاری نے اجلاس کے شرکا ء سے کہاکہ ایجنسیز نے مشرف دور میںاسلام پسند افراد کے خلاف بڑے پیمانے پرکارروائیوں میں شہریوںکو جبری طور لاپتا کیا جن میں ان کا بھائی شامل ہے، ان کا کہنا تھاکہ اگر ان کے بھائی کو مار دیا گیا ہے، بتادیا جائے یا اگرمارنا ہے تووہ بھی بتادیاجائے، جس کے بعد کمیشن نے دانش عقیل انصاری کو ازخود لاپتا قرار دیے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کے احکامات جاری کیے، اجلاس میں پیش ہونے والے افراد میںایک شخص کے بیٹے کو 9 برس قبل جبری طور پرلاپتا گیا تھا،جس کی اس وقت ایک 3 سالہ بیٹی تھی جو اب بھی اپنے باپ کو تلاش کرتی ہے اس کے بارے میں بھی کمیشن نے ازخود لاپتا ہونے کا فیصلہ کیا۔