شیخ جراح کے مکینوں نے اسرائیلی ہتھکنڈا ناکام بنا دیا

195
مقبوضہ بیت المقدس: حی الشیخ جراح کے مکینوں کی پیروی کرنے والے وکیل ذرائع ابلاغ کے نمایندوں سے گفتگو کررہے ہیں‘ کمرۂ عدالت میں موجود فلسطینی پُرعزم ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی ججوں نے تجویز پیش کی تھی کہ جن فلسطینی خاندانوں کو بیت المقدس کے شیخ جراح علاقے سے بے دخلی کا سامنا ہے انہیں محفوظ کرائے دار کا درجہ دے دیا جائے، تاہم فلسطینیوں نے اسرائیلی ملکیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شیخ جراح علاقے میں بے دخلی کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں نے اسرائیلی عدالت عظمیٰ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ گھر کو ایک یہودی آباد کار تنظیم سے کرائے پر حاصل کر لیں۔ ججوں کا کہنا تھا کہ اس سے وہ محفوظ کرائے دار بن جائیں گے اور اس طرح شیخ جراح کے پاس میں واقع انہیں اپنے گھر سے بے دخل بھی نہیں ہونا پڑے گا۔لیکن جو فلسطینی خاندان یہ طویل قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس انخلا سے آس پاس بسنے والے جو دیگر سیکڑوں افراد اس سے متاثر ہوں گے ان سب نے اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ اس پر اسرائیلی ملکیت کو تسلیم نہیں کریں گے۔اسرائیلی عدالت نے جو تجویز پیش کی تھی اس کے مطابق فلسطینی خاندانوں کو سالانہ تقریباً 465 امریکی ڈالر کی رقم بطور کرایہ نہلت شمعون کمپنی کو ادا کرنی پڑتی۔ یہی کمپنی اس علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ شیخ جراح کے پاس بسے فلسطینی خاندان ان گھروں کو خالی کر دیں۔اس مقدمے میں ایک فلسطینی محمد الکرد بھی شامل ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر عدالت کی اس تجویز پر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ زمین کی ملکیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے بجائے عدالت نے اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کی ہے اور ہم پر آباد کاروں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس بارے میں کوئی فیصلہ یا معاہدہ نہیں ہو پا یا۔ اس طویل مقدمے پر اسی برس فیصلہ آنا ہے، تاہم اس فیصلے سے قبل فریقین کے درمیان کسی طرح کا سمجھوتا ہو نے کی یہ آخری کوشش بتائی جا رہی ہے۔