کشمیر: آزادی کا سورج طلوع ہوگا

213

پانچ اگست2019 سے پانچ اگست2021 تک گزرنے والے سات سو اکتیس ایام محض سورج طلوع ہونے اور رات کی تاریکی چھا جانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایام اکسیویں صدی کے دوسرے عشرے کے پہلے دو سال کے بدترین دن ہیں کہ بھارت جس نے ظلم اور جبر کو روا رکھا ہوا تھا پانچ اگست کے اقدام کے ساتھ وہ کشمیری عوام کے لیے شیطان رجیم بن کر سامنے آیا، اس کے دل میں کشمیری عوام کے لیے جو کھوٹ تھا وہ سب عیاں ہوگیا، بھارت کے اس اقدام نے کشمیر میں خون ریزی کے سوا کچھ نہیں دیا، بھارت کی بد اعمالی اور کج فکری نے کشمیر میں بھیانک حالات پیدا کر رکھے ہیں وہ یہاں نئے قانون لاکر ہندو ریاست بنانے پر تلا ہوا ہے مگر اس کے مضحکہ خیز اقدمات کشمیری شہداء کی قربانیوں کے باعث منہ کے بل گریں گے اور بھارت کو ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ کے ابدی اور سدا بہار اصول ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ اللہ بھی مکاروں کے خلاف اپنی چال چلتا ہے اور اللہ کا حکم ہی غالب آکر رہے گا، وہ وقت دور نہیں جو کشمیری عوام کی آزمائش ختم ہوجائے گی اور سری نگر میں حق کا پرچم بلند ہوگا، ہم سمجھتے ہیں اور اس خطہ کے حالات و واقعات بھی ہمیں اس بات کی آگاہی دے رہے ہیں کہ آج ہمیں ضیاء الحق شہید جیسے جری بہادر، بہترین حکمت کار اور محب اسلام رہنماء کی ضرورت ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو گزشتہ ایک صدی سے کشمیریوں پر مشق ستم جاری ہے لیکن آرٹیکل 370اور 35۔ اے کے خاتمے کے بعد سے حالات ابتر ہوچکے ہیں۔ ایک ایک پل اہل ِ کشمیر کے لیے صدیوں پر بھاری ہے۔ ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت گلیوں میں گشت کرتے رہتے ہیں اور علاقے میں کسی بھی قسم کے احتجاج یا اجتماع کی بھنک پڑنے پر فوری کارروائی کا آغاز کر دیتے ہیں۔ یہ کارروائی کیا ہوتی ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ حوازادیوں کی عصمتوں کے آبگینے پارہ پارہ کیے جاتے ہیں۔ حریت پسندوں کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارنے کے ساتھ ساتھ ان پر قہرو ہولناکی کے آتش فشاں برسائے جاتے ہیں۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں۔ زندہ انسانوں کو شکنجوں میں کس کر ان کا بند بند ہتھوڑوں سے توڑا جاتا ہے۔ ناخن کھینچے جاتے ہیں، سروں اور ڈاڑھیوں کے بال نوچے جاتے ہیں۔ آج کشمیر وقت کی نوک قلم سے ٹپکنے والا لہو رنگ سوالیہ نشان ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ٔ ارض پر عصر ِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جہاں ایک طرف بھارتی سامراج کے ظلم و تشدد کا آتش فشاں دہکا ہوا ہے وہیں اہلِ کشمیر کا جذبہ بھی لائق ِ دید ہے۔ وہ جرأت و ہمت کی نئی داستانیں رقم کرنے کے لیے میدان ِ عمل میں نکل آئے ہیں۔ آج کشمیر میں ہر گھر مورچہ ہے تو ہر گلی میدان ِ جنگ۔ کشمیر کے ہر گھر میں شہیدوں کے لہو سے چراغاں کیا جا رہا ہے۔ اہلِ کشمیر کسی بھی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور حوصلے فراخ۔ وہ اپنے ہی لہو میں ڈوب کر آزادی کشمیر کا پرچم لہرا رہے ہیں۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ پانچ اگست 2019 کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا جب بھارت کی مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ بھارت کی تمام سابق حکومتوں نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا تھا اگرچہ ان کے دور میں بھی مقبوضہ کشمیر میں فوج، پولیس اور دیگر نوعیت کے مختلف اداروں کے ظلم و ستم جاری رہے، لیکن کشمیر کی حیثیت کبھی تبدیل نہیں کی گئی۔ مگر 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی سرکردگی میں یہ تار بھی چھیڑ دیا اور 5 اگست 2019 کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کا یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کر دیا گیا بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈائون کے ذریعے موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی، یہ صورت حال آج تک جاری ہے۔ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے کشمیر تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔ بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کر دیے۔ اور یوں آرٹیکل 370 کو ختم کرکے دستوری حکم 2019 نافذ کر دیا گیا، ہمیں علم ہے کہ بھارت کے 2019 کے عام انتخابات کے دوران نریندر مودی اور بی جے پی نے اپنے منشور میں کہا تھا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے قانون سازی کرکے اسے بھارت کا حصہ بنائے گی جبکہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دے گی، اس کے منشور کا اقوام متحدہ اور انصاف پسند عالمی تنظیموں کو دیکھنا چاہیے تھا مگر انہوں نے آنکھیں بند کیے رکھیں، بھارت نے صرف آرٹیکل میں ترمیم پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں ہنگامی حالت نافذ کرکے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، اور ان تمام دیگر سیاسی قائدین کو گرفتار کر لیا انہیں نظر بند کر دیا گیا، اس دن سے آج تک مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور درندگی جاری ہے، جعلی مقابلوں میں نوجوان شہید کیے جارہے ہیں۔
بھارت نے آرٹیکل 370 کو باقاعدہ ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا۔ 31 اکتوبر کو جموں کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پر باقاعدہ تقسیم کر دیا گیا اور لداخ براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلا گیا۔ 1947 سے قائم ریڈیو کشمیر سرینگر کا نام بھی تبدیل کردکے نیا نام آل انڈیا ریڈیو سرینگر رکھ دیا گیا۔ چین نے بھارتی اقدام کو مسترد کردیا۔ بھارت کے جاری نقشوں میں جموں و کشمیر اور لداخ میں کچھ حصہ چین کا بھی شامل تھا۔ چین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا۔
15 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات تسلیم کی گئی کہ گزشتہ کئی سال سے بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایسے پیلٹ گنز استعمال کیے ہیں جن کے کارتوس میں ایک وقت میں تین سو سے چھ سو چھرے داخل کیے جا سکتے ہیں۔ 26 جنوری کو مقبوضہ کشمیر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سے دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ پانچ اگست 2019 سے لے کر 5 اگست 2021 ظلم و ستم کے دوسال مکمل ہوئے ہیں مگر عالمی برادری ابھی تک مدہوش ہے بھارت کو ظلم و ستم سے روک نہیں رہی۔ بھارت کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی کی تحریک تشدد سے ختم نہیں کی جا سکتی۔ ایک وقت آئے گا جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔ اور ظلم و ستم کا باب بند ہوگا۔