ماہم قتل و زیادتی کیس: ملزم ذاکر کا ڈی این اے میچ ہوگیا، پولیس

248

کراچی: کورنگی زمان ٹاؤن میں 6 سالہ کمسن ماہم کو اغوا کرکے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس حل ہوگیا،  زیرحراست ملزم ذاکر کا ڈی این اے میچ کرجانے پر اسے باقاعدہ گرفتار کرلیا گیاجبکہ ملزم بچی کا محلہ دار، چار بچوں کا باپ اور رکشا ڈرائیور تھا۔

تفصیلات کے مطابق  ڈی آئی جی ایسٹ نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو اس کے فوری بعد پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی اور ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ پورے علاقے کو اسکین کیا، جو شواہد دستیاب تھے ان کی مدد سے ملزم کا خاکہ تیار کیا گیا اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں ٹارگٹ زیروئنگ کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے علاقے کی جیوفیسنگ بھی کرائی اور دیگر ٹیکنیکل سپورٹ حاصل کی گئیں، پولیس نے ڈی این اے نمونے حاصل کیے اور ایک ملزم ذاکر کو حراست میں لے لیا جس نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا، پولیس نے ملزم کا ڈی این اے نمونہ حاصل کر کے جامعہ کراچی میں واقع لیبارٹری بھجوایا اور ملزم کا ڈی این اے مقتولہ بچی کے کپڑوں سے حاصل کیے جانے والے ڈی این اے سے میچ ہوگیا۔

ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ گرفتار ملزم ذاکر عرف انٹول متاثرہ خاندان کا محلے دار اور بچی کا شناسا ہے، جس علاقے سے کسمن بچی کو اغوا کیا گیا وہاں روزانہ بجلی کی فراہمی معطل ہوجاتی ہے، ملزم اندھیرے اور بچی کے ساتھ مانوسیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بھلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور زیادتی کے بعد اسے اس لیے قتل کردیا کہ بچی اسے جانتی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف سب سے بڑا اور سائنٹیفک ثبوت ڈی این اے میچ کرنا ہے اورواقعے کے عینی شاہد بھی موجود ہیں جنہوں نے ملزم کو بچی کی لاش کو پھینکے ہوئے دیکھا ہے، گواہان کے سامنے ملزم کی شناخت پریڈ بھی کروائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے جس طرح کا رویہ اپنایہ وہ ایک ذہنی بیماری کی نشاندہی ہے ہمیں اپنے بچوں کو بھی ایجوگیٹ کرنا چاہیے کہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کیا ہے اوروالدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ نقل و حمل پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ ایسے لوگ ان کے قریب نہ آسکیں۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ جب یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا تو تھانے کا رویہ غیر مناسب تھا، اگر تھانے میں پولیس افسران مناسب طریقے سے ری ایکٹ کرتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی اور اسی وجہ سے ایس ایچ او زمان ٹاؤن اور ڈیوٹی افسر کو معطل کیا گیا ساتھ ہی 15 پولیس کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ملزم پر اس وجہ سے شک ہوا کہ کئی سال پہلے ملزم کا ایک اسی طرح کے واقعے پرعلاقے میں جھگڑا ہوا تھا اوراسی وجہ سے ہم نے اس کی نشاندہی کی تھی کہ یہ اسی طرح کے کردار کا مالک ہے۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ بچوں کی گمشدگی کے واقعات کو سنجیدہ لیا جاتا ہے اور اب ماہم کیس کے بعد مزید سنجیدہ لیا جائے گا اور اس طرح کے جتنے بھی مقدمات درج ہوئے ہیں ان کی تفتیش اے وی سی سی کو منتقل ہو جاتی ہےجبکہ گرفتار ملزم شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے اور رکشا چلاتا ہے۔

مقتولہ بچی کے والد نے بتایا کہ اگر تمام پولیس افسران اسی طرح اپنا کام کریں تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے ان کی بیٹی تو چلی ہے اب ان کی کوشش ہے کہ کسی کی بچی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔