الجزائر کا افریقی یونین میں اسرائیل مخالف بلاک

188
مغربی کنارہ: اسرائیلی فوج حی الشیخ جراح سے نوجوان کو گرفتار کررہی ہے‘ بیتا کے فلسطینی شہری قابض ریاست کے خلاف احتجاج کررہے ہیں

ادیس ابابا (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقی ملک الجزائر نے اسرائیل کے خلاف 13رکنی بلاک بنالیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق الجزائر سمیت 13 رکن ممالک نے اسرائیل کو افریقی یونین سے نکال باہرکرنے پر اتفاق کیا ہے۔ فلسطین میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم، مکانات کی مسماری اور فلسطینیوں کو آبائی زمینوں سے جبری بے دخل کرنے پر جہاں ایک طرف عرب ممالک نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے،وہاں جنوبی افریقا، تیونس، اریٹیریا، سینیگال، تنزانیا، نائیجر، الجزائر، گیبون، نائیجیریا، زمبابوے، لائبیریا، مالی اور سیشلزنے صہیونی حکومت کے خلاف کھل کر میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الجزائری وزیر خارجہ رمطان لعمامرہ کا کہنا ہے کہ الجزائر کا سفارتی مشن افریقی یونین میں اسرائیل کی شمولیت پر ہاتھ باندھ کرنہیں بیٹھے گا۔دوسری جانب اسرائیلی عدالت عظمیٰ نے اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے معاملے کی سماعت شروع کردی۔ مشرقی بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے معاملے پر ہی رواں برس مئی میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت کے باہر درجنوں افراد نے شیخ جراح کے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیلی آبادکاری کے خلاف مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ اسرائیل شیخ جراح کے علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ مئی میں شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی پر شروع ہونے والی کشیدگی فلسطین بھر میں پھیل گئی تھی،جس کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہی کشیدگی بعد میں اسرائیل اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان 11 روزہ جنگ کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ شیخ جراح سے تعلق رکھنے والے 4خاندانوں نے اسرائیلی عدالت عظمیٰ میں اس معاملے پر اپیل کی درخواست دی تھی۔ اس سے قبل ایک مقامی مجسٹریٹ اور ضلعی عدالتوں نے ان کے گھروں کو یہودی آبادکاروں کی ملکیت قرار دے دیا تھا۔ ادھر امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک جج نے فیصلہ دیا کہ امریکا میں فلسطینیوں کے حامیوں کی شناخت اسرائیلی تنظیموں سے مخفی رکھی جائے۔ لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے ایک میل کے ذریعے باضابطہ طورپرمطلع کیا گیا کہ یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حقوق کے محافظوں کی شناخت کومحفوظ رکھا جائے۔