جرمن بحریہ کے ہند بحرالکاہل مشن کا آغاز

159
جرمنی: وزیر دفاع کی موجودگی میں جنگی جہاز ہند بحرالکاہل خطے کے لیے روانہ ہو رہا ہے

 

برلن/ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی نے اپنے ہند بحرالکاہلمشن کا آغاز کر دیا۔ اس مقصد کے لیے ایک جنگی جہاز پیر کے روز روانہ کیا گئی۔ اس موقع پر ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ کرامپ کارن باور نے بھی شرکت کی۔ یہ جنگی جہاز آیندہ 6ماہ تک قرنِ افریقا سے سنگاپور اور جنوبی کوریا سے آسٹریلیا تک کے پانیوں میں گشت کرے گا۔ جرمن حکومت اس مشن کے ساتھ اپنے ہند بحرالکاہل اتحادیوں کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا الزام ہے کہ بیجنگ حکومت خاص طور پر بحیرہ جنوبی چین میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ تاہم چین ان خدشات کو رد کرتا ہے۔ اسی تناظر میں چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ چین پر دھونس جمانے والوں کا منہ توڑ دیا جائے گا، ایسی طاقتوں کو چینیوں کی آہنی دیوار پاش پاش کر دے گی۔ خبررساں اداروں کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی سویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنے خطاب میں چینی صدر نے کہا کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں میں مغربی طاقتوں اور جاپان کی محکومی کے بعد کمیونسٹ پارٹی نے چین کی عظمت بحال کی۔ گزشتہ چند عشروں کے دوران دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی غیر ملکی طاقت کو دھونس جمانے ، دبانے یا غلام بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ایک ارب 40 کروڑ چینیوں کی آہنی دیوار ان کو پاش پاش کر دے گی۔ انہوں نے ہانگ ہانگ میں نظم ونسق بحال کرنے کا اعلان کیا اور کیمونسٹ پارٹی کی جانب سے تائیوان کو چین کے زیر تسلط لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کا فوج پر مکمل کنٹرول برقرار رہے گا۔ قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے مفادات کے لیے چینی فوج کی صلاحیتوں کو مزید نکھار کر اسے عالمی معیار کی فوج بنایا جائے گا۔