فالج اور امراضِ قلب سے خبردار کرنے والا الٹراساؤنڈ اسٹیکرتیار

336

دورہ دل کا ہو یا فالج کا، اس میں وقت پر علاج کی زبردست اہمیت ہوتی ہے جس سے مرض کے حملے کو ٹال کر جان بچائی جاسکتی ہے اوراس ضمن میں اب الٹراساؤنڈ اسٹیکر(پیوند) بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق جامعہ کیلی فورنیا سان ڈیاگو کے پروفیسر شینگ زو نے اس حوالے سے باریک لچکدار پالیمر کو 12 ملی میٹر چوڑے اور اتنے ہی لمبے ٹکڑے میں کاٹا جو الٹراساؤنڈ امواج خارج کرتا ہے۔

پروفیسر شینگ زو کا کہنا ہے کہ  اسے سینے یا گردن پر چسپاں کرکے فی الحال تار کے ذریعے بجلی فراہم کرکے کمپیوٹر سے پروسیسنگ کی جاتی ہےلیکن اگلا ماڈل وائرلیس ہوسکتا ہے۔

پہلے تجربے میں الٹراساؤنڈ لہریں جلد کی ساڑھے پانچ انچ گہرائی تک پہنچیں،  دوسرے طریقے میں الٹراساؤنڈ کی بہت سی امواج کو مختلف زاویوں میں پھینکا گیا، اس طرح جسم کے بڑے حصے کا الٹراساؤنڈ پس منظر سامنے آگیا، تاہم اس طرح صوتی امواج خون کی نالیوں سے گزریں اور خون کے خلیات تک پہنچیں، پھر وہاں سے دوبارہ پلٹیں اور عین اسی راہ سے ہوتی ہوئی دوبارہ اسٹیکر تک لوٹیں۔

ماہرین کاکہنا تھا کہ اس طرح بدن کے مختلف حصوں سے پلٹنے والی صوتی بازگشت میں خون کے بہاؤ، بلڈ پریشر، نسیجوں کی صحت اور دل کی کیفیات پوشیدہ ہوتی ہیں اور اس طرح ڈاکٹر فوری طور پر قلب (دل) اور اس کی رگوں میں کسی قسم کی تشویشناک تبدیلی کو جان سکتا ہے اور اسے کئی مریضوں پر آزمایا گیا تو اس سے روایتی الٹراساؤنڈ جیسے ہی بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق عام افراد کے اندازِ استعمال سے نتائج پر فرق پڑسکتا ہے لیکن اس خرابی میں پیوند کا کوئی کردار نہیں، تاہم اسٹیکر لگانے کی واضح ہدایات سے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

واضح رہے انقلابی اسٹیکر سے فالج اور امراضِ قلب سے فوری طور پرآگہی حاصل کی جاسکتی ہے۔