وزیرخارجہ کے بیان سے متعلق دفترخارجہ کی اہم وضاحت

227

ترجمان دفتر خارجہ نے داعش اور طالبان بارے زیرگردش وزیرخارجہ سے منسوب بیان  کو گمراہ کن اور افسوسناک قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش وزیرخارجہ کے بیان سے متعلق دفترخارجہ نے واضح کیا ہے کہ وزیرخارجہ سے وہ باتیں منسوب کی گئیں جو انہوں نے نہیں کیں۔

ترجمان دفترخارجہ زاہدحفیظ نے کہا کہ وزیر خارجہ نے افغانوں کو قبول امن عمل کی بات کی تھی پاکستان نے بارہا کہا افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ ازخود کرنیوالے تمام فریقین کو مدنظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ سے وہ باتیں منسوب کی گئیں جو انہوں نے نہیں کیں، پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔

قبل ازیں کینیڈا کے سابق وزیر کرس الیگزینڈر کے غیر ضروری تبصرے پر پاکستان نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرس الیگزینڈر کی افغانستان امن عمل میں پاکستان کے کردار سے متعلق معلومات گمراہ کن ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کینیڈا کے سابق وزیر کرس الیگزینڈر کے ریمارکس زمینی حقائق سے لاعلمی پر مبنی ہیں وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ کہا افغان تنازع کا  کوئی فوجی حل نہیں پاکستان ہمیشہ افغان تنازع کے جامع سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا کرس الیگزینڈر کا  معاملہ کینیڈا کی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہےکینیڈین حکام کو کہا ہے کہ وہ اس بدنینی مہم کےخلا ف اقدامات کریں۔