چین امریکا سرد جنگ میں خلیجی ممالک کا امتحان

180

امریکا و چین کے درمیان جاری سردجنگ کے تناظرمیں دنیابھرکے ممالک اپنی اپنی اسٹریٹجی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ جنوبی ایشیا بالعموم اور بالخصوص خلیجی ممالک بھی ان دو عالمی طاقتوں کے حوالے سے خطے میں اپنے مختلف مقاصد اورترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کررہے ہیں۔ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس صورتحال میں ذراسی غلطی کی بھاری قیمت اداکرنی پڑسکتی ہے۔ ان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سردجنگ میں خلیجی تعاون کونسل کاکرداردیگرممالک سے زیادہ اہم ہے۔ امریکا نے اس خطے میں ایک مخصوص پلان کے تحت عراق کویت جنگ کاجال جس کامیابی کے ساتھ پھیلایا،آج اسی کے نتیجے میں1991۔1990 کی خلیج جنگ سے ان ممالک کی سیکورٹی کے معاملات میں براہ راست شامل ہوچکاہے۔ خلیج کی اس حماقت کی بنا پران ممالک کوامریکی افواج کی موجودگی کے لیے کثیر سرمایہ صرف کرناپڑرہاہے۔اس پرمستزادسعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سمیت قطرکی ناکا بندی کرکے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی اوران ممالک کوپورایقین تھاکہ قطرچندہفتوں میں پرانی تنخواہ پرکام کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے گالیکن قطرنے بہترین سیاسی حکمت عملی سے اس تمام پروگرام کونہ صرف سبوتاژکرکے خودکومنوایابلکہ ان تمام ممالک کودوبارہ قطرکے ساتھ تعلقات استوارکرنے پرمجبورکردیالیکن ان حالات کے دوران بھی امریکانے نہ صرف قطرکے اربوں ڈالرکے سرمایہ سے تیارکردہ بحری اڈے پراپنی افواج کوتعینات کررکھاہے بلکہ امریکانے اپنی موجودگی سے قطر،بحرین،متحدہ عرب امارات،کویت، عراق، سعودی عرب میں اپنے مضبوط پنجے گاڑھے ہوئے ہیں۔ اس طرح ان ممالک میں امریکااپناگہرااثرورسوخ قائم کرچکاہے۔
امریکی پالیسی کی ناکامی کی بازگشت کے باوجودسابقہ صدرٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ پالیسیوں کوبائیڈن انتظامیہ نے بھی اسرائیل، متحدہ عرب امارت اوربحرین کے درمیان تعلقات کوبحال کرنے میں نہ صرف مزیدکامیابی حاصل ہوئی ہے بلکہ امریکی کوششوں سے سعودی عرب اوراسرائیل تعلقات کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، جسے تاحال ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ امریکانے خطے میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے اپنی تزویراتی حکمت عملی سے قطر،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،مصراوربحرین کے مابین جاری سرد جنگ کوامن اوراعتمادکی فضامیں کامیابی سے تبدیل کر لیاہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکااورچین دونوں، تیل کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک کے وسائل پرانحصارکرنے پرمجبورہیں۔وبا کی صورتحال سے پہلے چین نے اپنی ضرورت کا28 فیصد تیل خلیجی ممالک سے حاصل کیا۔مئی2020ء میں سعودی عرب نے اپنے تیل کا تین تہائی حصہ صرف چین کودرآمدکیا۔اسی طرح عراق نے بھی تیل کاایک بڑاحصہ چین کودرآمدکیاتھا۔ اپنی معاشی ضرورت کے تناظر میں خلیجی ممالک کے لیے چین کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں۔خاص طورپرموجودہ معاشی صورتحال اورعدم استحکام میں ان تعلقات کی اہمیت اوربڑھ جاتی ہے۔
اس وقت امریکااورچین کے درمیان تنازع کی ایک اہم وجہ5جی نیٹ ورک ہے۔ٹرمپ کی حکومت نے اپنے53اتحادی ممالک کے ساتھ ’’کلین نیٹ ورک انیشیٹو‘‘ کاآغارکیا تھا ،جس کامقصدچین کوٹیکنالوجی کے میدان میں تنہاکرنے اوراس کی بڑھتی ہوئی تکنیکی ترقی اوراثر ورسوخ کوروکناتھا۔اس حوالے سے امریکانے اسرائیل پربھی زوردیاتھاکہ وہ چین کے تکنیکی وسائل کے استعمال سے اجتناب کرے۔ امریکااپنے اتحادیوں کوچین کے خلاف تکنیکی جنگ کے لیے تیارکرنے کے بعداب خلیجی ممالک پراس حوالے سے دبابڑھانے کی تیاری کررہا ہے۔ کویت میں موجودچینی سفارت کاراورامریکی ہم منصب کے درمیان ٹوئٹرپیغام کے تبادلے کوامریکااورچین کے درمیان جاری سردجنگ کے وسیع ترتناظرمیں دیکھناچاہیے۔
امریکامیں دفاعی وسیاسی تجزیہ نگاروں نے بائیڈن حکومت کومشورہ دیاہے کہ امریکاکواب اپنی پالیسی چین کے تناظرمیں ترتیب دینا ہوگی جبکہ امریکاکوخلیجی ممالک میں اپنی موجودگی برقراررکھنے اوردنیابھرمیں اپنی افواج کی موجودگی کے حوالے سے ازسرنواپنی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ امریکاکواپنی نئی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت انڈوپیسیفک خطے میں اپنااثر ورسوخ بڑھانے کے لیے اپنی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیوں کاآغاز کردینا چاہیے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ بائیڈن کی قیادت میں چین کے حوالے سے امریکاکی سابقہ پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی جس کااندازہ جوبائیڈن کے ایک حالیہ جارحانہ بیان سے اندازہ لگانامشکل نہیں جس میں انہوں نے چین کوانتباہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’امریکا،اکیلے چین کوعالمی معاشی کیک کھانے کی اجازت ہرگزنہیں دے گا۔امریکادیگرممالک کے ساتھ شراکت اورتعاون کوچین کے تناظر میں ترتیب دے گااورخلیجی ممالک میں اپنی غیرمعمولی توجہ اور موجودگی کوبرقراررکھے گا۔تاہم امریکادنیابھرمیں اپنی عسکری صف بندی کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں کرسکتاہے‘‘۔
امریکایہ جان چکاہے کہ سی پیک پاکستان کے بہترین مفادکامنصوبہ ہونے کے ساتھ خطے کے لیے گیم چینجرکی بھی حیثیت رکھتاہے اور یہ عظیم منصوبہ دشمن قوتوں کے سینے پرسانپ بن کر بھی لوٹ رہاہے اوران کے شب وروزسی پیک معاہدے کوسبوتاژکرنے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں اوربالخصوص امریکاہرحال میں اس پراجیکٹ کوناکام کرنے کے لیے ہمارے ازلی دشمن بھارت کواستعمال کر رہاہے۔اب یہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے مگراس کے خلاف سازشوں کے جال متواتربنے جارہے ہیں۔گزشتہ 6 سال کے دوران سی پیک کے حوالے سے سست ہونے والی رفتارمیں ایک مرتبہ پھرنمایاں پیشرفت شروع ہوچکی ہے۔34منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جوپاکستان کی سماجی واقتصادی ترقی اورعوامی فلاح وبہبودکی بہتری میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ان کے نتیجہ میں لوکل ٹرانسپورٹیشن انفرا سٹرکچراورپاورسپلائی

میں زبردست بہتری آئی ہے۔اس کے علاوہ کروناکے باوجود 75 ہزارملازمتیں پیداہوئیں اورپاکستان کی جی ڈی پی پیداوارمیں1سے2فیصداضافہ ریکارڈکیاگیا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکررہاہے بلکہ اس سے عوام کامعیارزندگی بھی بلند ہونے کے روشن امکانات ہیں۔ ان حالات میں یہ افواہ بھی گردش کرتی رہی کہ امریکانے ایک مرتبہ پھرافغانستان سے اپنی فضائی فورس کے لیے پاکستان سے شمسی ائیربیس کے علاوہ دیگرہوائی اڈے مانگے ہیں، تاہم ان معاملات کی کوئی ٹھوس تصدیق یا تردید تاحال نہیں ہو سکی۔
اُدھرہرطرف سے ناکامی کے بعداب امریکانے چین کو چائنا سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور ساتھ ہی چائنا سی کے اردگردموجودتمام ممالک انڈونیشیا،برونائی، چاپان، فلپائن،تائیوان،ہانگ کانگ،ساتھ کوریا،ویت نام کوچین کے خلاف اکسانے میں کامیاب ہوگیاہے اورآسٹریلیاتویہاں اپنے ڈیسٹرائٹراورایئرکرافٹ کیریئرلے کرگشت کررہاہے اوربھارت پربھی اس مطالبے کے بعدکڑاوقت آن پہنچا ہے کہ وہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کوچین کے بحری جہازوں کے لیے بندکردے۔یادرہے کہ آبنائے ملاکا کے ذریعے چین کی زیادہ ترتجارت ہوتی ہے اورچین کا80 تیل اسی راستے سے گزرتاہے۔اگریہ راستہ بندہوتاہے توبدلے میں چین کے پاس اپنی تجارت کے لیے صرف گوادربچتاہے جوکہ پاکستان کے لیے بہت ہی خوش آئندبات ہے۔دوسری طرف بھارت جانتاہے کہ اگراس نے آبنائے ملاکابند کرنے کی کوشش کی توجواب میں چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کرکے سلی گڑی کوریڈورجوکہ بھارت کی سات ریاستوں آسام، ناگا لینڈ،اروناچل پردیش،میگ ہالیہ،میزورام،منی پور،تری پورکوباقی بھارت سے ملاتاہے،اس پرقبضہ کرکے ان سب کوبھارت سے علیحدہ کردے گا۔ بھارت یہ بات اچھی طرح جانتاہے اوراسی لیے کافی حدتک خاموش ہے۔ اب بھارت نے اگرتبت کارڈکھیلنے کافیصلہ کیا اوردلائی لامہ کو پوری دنیامیں لے کر جانے کاپروگرام بنایاتومغرب ایک مرتبہ پھرامریکاکے کہنے پریواین اومیں اس کارڈکی پشت پناہی کرے گاتواس کے نتیجے میں چین بھی ہمیشہ کی طرح پاکستان سے مل کر کشمیرکی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا، اورہرصورت کشمیر کی آزادی کے لیے وہ تمام وسائل بروئے کارلائے گاجوکبھی مغرب اورامریکانے روس کوافغانستان سے نکالنے کے لیے استعمال کیے تھے اوریہ ہزاروں میل دوربیٹھے مغرب اور امریکا کے لیے بھارت کواس مشکل سے نکالناناممکن ہوجائے گاکیونکہ چین اورپاکستان کئی اطراف سے بھارت اور کشمیرکاگھیراتنگ کردیں گے اورروس بھی بھارت کی امریکا دوستی کے جواب میں جوادھارکھائے بیٹھاہے، اپنا حساب برابرکردے گا کیونکہ امریکاکے کہنے پرمودی نے روس سے اسلحہ کے معاہدے پردستخط کے باوجود فرانس سے رافیل طیارے خریدے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ برس ستمبرسے سی پیک کے خلاف بھارتی اورامریکی سازش کے توڑ کے لیے چین ماؤنٹ ایورسٹ پرفوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹرزکے ساتھ لداخ اور ماؤنٹ ایورسٹ پر پانچ ہزارسے زائد فوجی تعینات کرچکاہے۔ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ گیلون ندی(لداخ)سمیت تین مختلف مقامات پرچینی فوج 4-5 کلومیٹرتک ایل اے سی سے آگے مورچہ بند ہوچکی ہے۔صرف گلون ندی کے مقام پرچین نے100سے زائدٹینٹ لگا دیے ہیں جہاں بھارتی میڈیاکے مطابق چینی فوج زیرزمین بنکرز بناچکاہے جبکہ گزشتہ برس کچھ بھارتی فوجیوں کوگرفتارکرکے بڑاواضح پیغام دے چکاہے جبکہ اس معرکے میں بڑی تعدادمیں بھارتی فوجیوں نے بھاگ کرجان بچائی تھی۔لداخ اورسکم کی سرحد پر چینی فوج کی نقل وحرکت سے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف250کلومیٹردورہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحدپرچینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ بھارت نے پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیاہے کہ چین لداخ کے38ہزارمربع میل پرقبضہ کر چکاہے۔اس کااعتراف خود بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ بھارتی پارلیمان میں کرچکاہے۔میں یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ لداخ کاکل رقبہ 59146مربع میل ہے۔
دوسری طرف چین نے ایران کے ساتھ 460بلین ڈالرکاتجارتی سمجھوتا کرکے اس کومکمل طورپربھارت کی گودسے نکال لیاہے اوراب ایران بھی چین کی خوشنودی کے لیے کھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہاہے۔اب صرف عرب ممالک کافیصلہ باقی ہے۔چین نے سعودی عرب اورباقی ممالک کوتیل کی تجارت ڈالرمیں کرنے کی بجائے اپنی کرنسیوں میں کرنے کی پیش کش کی ہے جوکہ امریکی ڈالر کوبدترین دھچکاہوگاجبکہ کوروناکی وجہ سے امریکی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کی شکارہے۔اس وقت امریکاکابھی عرب ممالک اورپاکستان پربھرپوردباہے۔اگرسعودی عرب دباؤپرگھٹنے ٹیک کرامریکی بلاک میں رہتاہے توچین فوری طورپرسعودی عرب کے بجائے ایران اورروس سے تیل خریدناشروع کر دے گا۔ یادرہے کہ چین صرف سعودی عرب سے سالانہ40ارب ڈالرزکاتیل خریدتاہے جبکہ ایران پہلے ہی چین کوآدھی قیمت پرتیل دینے کی پیش کش کرچکاہے۔
عرب ممالک پربہت ہی کڑاوقت ہے۔ بالخصوص پچھلے دنوں بائیڈن نے سعودی ولی عہدکافون سننے سے یہ کہہ کرانکارکردیاتھاکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔ یقیناًولی عہدسعودی عرب پرامریکی میڈیامیں شائع ہونے والی اس خبرنے بھی کوئی اچھااثرنہیں چھوڑااورتاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کے لیے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستاہے اورچین ہرحال میں اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اب فیصلہ محمدبن سلمان کی صوابدیدپرہے کہ وہ خطے میں اپنے اقتداراورملکی سلامتی کے اپنی ترجیحات کیسے طے کرتے ہیں جبکہ پاکستان اورچین پہلے ہی سعودی عرب اورایران میں تعلقات کی بحالی کے لیے کام کررہے ہیں۔
بائیڈن اپنی انتخابی سرگرمیوں کے دوران بھی زوردیتے رہے ہیں کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوروکناضروری ہے۔خلیجی قیادت امریکاکے دیگرممالک کے ساتھ ممکنہ اتحاد اورشراکت کے حوالے سے اضطراب کا شکار ہیں۔ لگتایہ ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اقتصادی اورمعاشی مفادات کے پیش نظرچین کے خلاف امریکاکی صف بندی میں شمولیت سے اجتناب کریں گے۔ خلیجی ممالک کواس بات کاادراک ہوگیاہے کہ انہیں اپنی دوررس تزویراتی منصوبہ بندی،خطے میں استحکام اوراپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ دیگرممالک فرانس،روس،یونان اوربرطانیہ کے علاوہ دیگرممالک کے ساتھ تعلقات استوارکرنابھی ضروری ہے اوراس کڑے وقت میں عربوں کو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کوبھی آزمانے کاموقع ملاہے اوروہ ایک مرتبہ پھرجان چکے ہیں کہ پاکستان کی دوستی ہرآزمائش میں پوری اتری ہے۔