مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی پر جدہ میں مقیم کشمیری رہنماؤں کی مذمت

112

بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر جعلی رٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں سب کچھ ٹھیک ہے، جس پرجدہ میں مقیم ممتاز کشمیری رہنماؤں نےاس بیان کی حقیقت پر تبصرہ کرتے ہوئے جسارت سے گفتگو کی ہے، جسے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
جدہ میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مسعود احمد پوری نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و میں ’’سب کچھ ٹھیک ہے‘‘ کے منتر کو جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ انتہائی جابرانہ اور غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت کی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سے صورتحال بدستور خراب ہوتی جارہی ہے۔ 7 دہائیوں سے مظلوم کشمیریوں کو بھارتی حکومت کے جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج بھی نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے بعد سے مقبوضہ وادی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ بھارت نے ریاست میں فوجیوں کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ تک پہنچا دی ہے، جس بنا پر دنیا آج مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل کہہ رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں 2 سال سے آواز اٹھانے، احتجاج اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہے۔ ان تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود بھارتی حکومت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے دعویٰ کرتی ہے کہ لوگوں نے اس کارروائی پر کوئی احتجاج نہیں کیا ہے، جب کہ ان ظالمانہ اقدامات کے باوجود کشمیری اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے رہتے ہیں اور اگر کشمیریوں کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بولنے کی آزادی ہوتی تو یہ مظاہرے اور احتجاج کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ہوتے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ہیومن رائٹس کمیشن جنیوا سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں آئی او جے کے میں انسانی حقوق کی ’’سنگین خلاف ورزیوں‘‘ پر تشویش کا اظہار کررہی ہیں۔ اس کے باوجود ، کشمیریوں کو مودی کی زیر قیادت حکومت کے غاصبانہ دور میں بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خود بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسعود احمد پوری نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن اور دیرپا حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ پر امن طریقے سے خود کریں۔ ہندوستانی قبضے کے ہاتھوں کشمیریوں کی تین نسلوں نے نقصان اٹھایا ہے۔
چیئرمین جموں کشمیر کمیٹی اوورسیز(جے کے سی او) چودھری خورشید احمد متیال نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو قبول نہیں کیا۔ بھارتی فوج ریاست میں کھلی دہشت گردی کررہی ہے اور وہاں مسلم آبادی کے تناسب کو طاقت کے بل پر تبدیل کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے جب کہ حقائق چھپانے کے لیے ہمیشہ کی طرح دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا کہ تحریک آزادی کشمیر کامیاب ہوگی اور کشمیری مجاہدین اور شہدا کا خون رنگ لائے گا۔
کشمیری کمیونٹی کے سرگرم کارکن اور جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیزکے جنرل سیکرٹری راجا محمد ریاض نے کہا ہے کہ بھارت دعویٰ کر رہا ہے کہ کشمیری آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے خوش ہیں، اگر ایسا ہی ہے توہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی 9 لاکھ دہشت گرد فوج کو مقبوضہ وادی سے واپس بلائے، جس سے بھارت کو اس کا مقام اور دنیا کو کشمیریوں کی خواہش کا پتا چل جائے گا۔ بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے اور انٹرنیٹ خدمات مسدود کردی ہیں تاکہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر کے حالات کے بارے میں حقیقت سے واقف نہ ہو سکے۔