بھارت نے کشمیریوں پر سرکاری نوکری اور پاسپورٹ کے اجراء پر پابندی لگادی

180

سری نگر(اے پی پی) بھارتی حکومت کا کشمیریوں کے لیے ایک ظالمانہ اقدام، کشمیریوں کے لیے سرکاری ملازمت اور پاسپورٹ کے اجرا پر پابندی عاید کردی ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اعلیٰ حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سی آئی ڈی کی اسپیشل برانچ نے تمام یونٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ امن وامان خراب کرنے ، پتھر بازی اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کو سیکورٹی کلیئرنسنہ دی جائے ۔اس سے پہلے جموں و کشمیر سول سروسز کے قواعد و ضوابط 1997 میں قابض انتظامیہ نے ایک ترمیم کی جس کے تحت سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے سی آئی ڈی کی تسلی بخش رپورٹ لازمی قراردی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق نوکری کے خواہشمند افراد کے لیے یہ بتانا لازمی ہے کہ خاندان کا کوئی رکن یا قریبی رشتہ کسی سیاسی جماعت یا تنظیم سے وابستہ تو نہیں ہے ، کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ تو نہیں لیا، یا غیر ملکی مشن یا تنظیم کے ساتھ تعلق تو نہیں ہے یا جماعت اسلامی جیسی کسی ممنوع تنظیم سے کوئی تعلق تو نہیں ہے۔ تازہ ترین ترمیم کے مطابق حاضر ملازمین کو سی آئی ڈی سے دوبارہ تصدیق کرانا ہوگی اور والدین، بیوی، بچوں اور سسرالیوں ، بہنوئی ، سالی وغیرہ کی نوکریوں کی تفصیلات کے علاوہ تقرری کی تاریخ اور ترقیوںکی تفصیلات پیش کرنا ہونگی۔ دوسری جانب حریت قیادت نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 اگست کو مکمل ہڑتال کریں اور مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔واضح رہے کہ5اگست 2019 ء کو مودی کی قیادت میں فسطائی بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے علاقے کو 2 یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کیاتھا اور علاقے کا فوجی محاصرہ کیاتھا۔ ادھر کشمیر میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز نے گزشتہ ماہ جولائی میں 2خواتین سمیت 37کشمیریوں کوشہید کر دیا ہے۔ پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں صحافیوں سمیت 28افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اس عرصے کے دوران 57شہری جن میں زیادہ تر نوجوان اور سیاسی کارکن ہیں ، گرفتار کر لیے گئے۔ فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی 219 کارروائیاں کیں اور 10گھروں کو تباہ کیا۔