طالبان 3 بڑے شہروں میں داخل قندھار ایئرپورٹ پر راکٹوں سے حملہ،تمام پروازیں منسوخ حکومت کی تصدیق

251

کابل(صباح نیوز+آن لائن) طالبان افغانستان کے 3بڑے شہروں ہرات، لشکر گاہ اور قندھار میں داخل ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہرات ، لشکرگاہ اور قندھار میں طالبان کے حملے جاری ہیں،افغان اسپیشل فورسز کے دستے لشکر گاہ کی جانب بھیجے جا رہے ہیں۔افغان رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ طالبان کے حملوں سے ہزاروں افغان بے گھر ہو چکے ہیں اور قندھار میں گزشتہ 20 سال کی بدترین لڑائی جاری ہے۔علاوہ ازیں قندھار ائرپورٹ طالبان کے راکٹ حملوں سے گونج اٹھا جس کے نتیجے میں تمام پروازیں منسوخ ہوگئیں اور رن وے کوشدید نقصان پہنچا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان فضائیہ قندھار ائرپورٹ سے پرواز بھر کر فضائی حملے کر رہی تھی جس کے جواب میں ائرپورٹ کو نشانہ بنایا۔کابل حکومت کے ترجمان نے بھی قندھار ائرپورٹ پر طالبان کے راکٹ حملوں کی تصدیق کی ہے۔ افغان فوج نے راکٹ حملوں کے باوجود طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔دوسری جانب صوبے ہرات میں طالبان نے اکثریتی علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس کے بعد افغان فوج کے مزید تازہ دم دستے صوبے کی جانب روانہ کیے گئے ہیں جہاں طالبان اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا۔انہوںنے کابینہ کے پہلے ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ہمارے مستقبل کو ماضی جیسا بنانا چاہتے ہیں اور طالبان کی طرف سے جنگ بندی تک انہیں امن عمل میں شامل نہیں کریں گے۔ اشرف غنی نے کہا کہ طالبان امن مذاکرات پر مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں اور اگلے 6 ماہ میں افغانستان میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ افغان شہری کچھ حصوں میں حکومت سے خوش نہیں ہیں لیکن آئین کو صحیح طریقے سے نافذ کر کے لوگوں کو مطمئن کریں گے۔