چین میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آ گئی

322

بیجنگ: چین کے شہر نانجبگ میں سامنے آنے والا نیا خطرناک کورونا وائرس مزید پانچ صوبوں اور دارالحکومت بیجنگ تک پھیل گیا ہے اور اس سے اب تک 200 سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہےکہ  گزشتہ سال ووہاں شہر میں سامنے آنے والے وائرس کے بعد چین میں یہ دوسرا نیا خطرناک کورونا وائرس ہے اور نئے کورونا وائرس سے اب تک 200 افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے سات کی حالت تشویشناک ہے۔

ماہرین کا کہنا  ہے کہ چین میں کورونا کا نیا وائرس بھارتی قسم ڈیلٹا وائرس سے ملتا ہے اور یہ وائرس چین میں حال ہی میں سامنے آیا ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کورونا کی نئی قسم پانچ صوبوں میں سامنے آئی ہے اور یہ وبا دارالحکومت بیجنگ تک پھیل چکی ہے جبکہ کورونا کا نیا وائرس پانچ صوبوں سمیت چینگدو اور دارالحکومت بیجنگ تک پھیل گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق  کورونا کی نئی لہر کا پہلا کیس 20 جولائی کو 90 لاکھ  سے زائد آبادی والے شہر نانجنگ میں سامنے آیا ہے اور نئے وائرس کے سامنے آنے کے پیش نظر نانجنگ ایئر پورٹ پر 11 اگست تک پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ نئے کورونا وائرس سے متاثر ہوانے والے افراد نے ویکسین لگوائی تھی یا نہیں۔

خیال رہے کہ چین اب تک کورونا وبا پر قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہوا ہےاورچین نے کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ اپنے بارڈرز بند کردیے ہیں۔

یاد رہے  چین کے دو سرکاری دوا ساز ادارے سائنوویک اور سائنوفارم اپنی ویکسین دنیا کے بائیس ممالک کو برآمد کر چکے ہیں جن میں پاکستان میکسیکو، ترکی، انڈونیشیا، ہنگری، برازیل اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔

پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر بڑی تعداد میں چین کی یہ ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ایشیا میں اب تک لاکھوں افراد کو سائینو ویک اور سائنوفارم کی ویکسین لگائی جاچکی ہیں۔