پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضا ٖفہ آخر کیوں؟

188

محدود آمدنی میں بجٹ کیسے بناتے ہیں اور اس کو کس طرح منظم کرتے ہیں آمدنی کے اہداف کیا ہوتے ہیں اخراجات کی نو عیت کیا اور کس طرح ہو تی ہے اور اخراجات کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں اس کے بارے میں ایک غیر تعلیم یا فتہ ، کم تعلیم یا فتہ اور گھرداری کرنے والی خا تون سے معلوم کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ وہ ہمارے معاشی ماہر ین سے بہترین بجٹ بنانا جا نتی ہے ، جب ہم انٹر کلاسز کے طالب علم تھے تو ہمارے کالج کے با ہر ایک چھولے کی چاٹ والا اپنا ٹھیلہ لگا تا تھا ہم بھی کبھی بریک کے وقفہ میں یا چھٹی کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ کبھی اکیلے ہی چھولے وغیرہ کھایا کرتے تھے اس دوران ہم دیکھتے تھے کہ وہ جب اپنے گا ھکوں سے پیسے لیتا تو پیسے الگ الگ رکھتا تھا ہم اکثر اس کا یہ عمل دیکھتے اور حیرت کرتے کہ پیسے یہ سارے ہی ہیں یہ الگ الگ کیوں رکھتا ہے ہم یہ سب کچھ کا فی عرصے تک دیکھتے رہے لیکن کبھی ہمت نہ ہوئی کہ اس سے پو چھ لیتے کہ آخر وہ پیسے اس طرح الگ الگ کیوں رکھتا ہے ایک دن ہم نے جب دیکھا کہ ہم تنہا ہی اس کے ٹھیلے پر کھڑے ہیں تو ہم نے ہمت کر کے اس سے پو چھ ہی لیا کہ آپ یہ پیسے الگ الگ کیوں رکھتے ہیں وہ ہماری یہ بات سن کر مسکرایا اور اس نے کہا بیٹا دراصل میں اپنے استعمال کی تمام چیزیں مختلف دکا نوں سے روزانہ نقد خریدتا ہوں اس لیئے میں نے مختلف ڈبے رکھے
ہو ئے ہیں اور اپنے حساب کتاب سے پہلے وہ پیسے نکالتا ہوں جو مال کے ہوتے ہیں اور جب مال کے پیسے نکال لیتا ہوں تو پھر منافع کے پیسے نکا لتا ہوں اور ان کی بھی تقسیم ایسے کرتا ہو ں کے گھر کے سوداسلف کہ پیسے الگ رکھتا ہوں ، گھر کہ مزید خرچ کا بھی میں ایک تعین کر رکھا ہے وہ بھی الگ نکا لتا ہوں پھر سب سے آخر میں کچھ تھوڑی سی بچت نکالتا ہوں تاکہ وقت ضرورت کام آسکیں اس کی یہ بات سن کر میں نے اس سے مزید سوال کیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں اس نے جواب دیا بیٹا تم نے بجٹ کے بارے میں سنا ہے میں نے کہا نہیں اس نے کہا دراصل ہر گھر کا کچھ نہ کچھ خرچہ ہو تا ہے اور اس خرچ کو چلانے کہ لیئے ایک ترتیب بنانا پڑتی ہے تاکہ آگے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو اور کاروبار بھی روانی کیساتھ چلتا رہے میں نے اس سے کہا کہ انسان کے ساتھ سو طرح کہ مسائل ہو تے ہیں دکھ بیماری ہے شادی بیاہ ہے وہا ں بھی تو پیسے دینا ہو تے ہیں وہ کس طرح ترتیب دیتے ہیں اس نے کہا کہ حاصل ہونے والے منافع میں سے میری اہلیہ کچھ رقم اس مقصد کے لیئے اٹھا رکھتی ہے تاکہ کسی قسم کی پریشانی میں کام آئے ۔ میں نے اس سے پو چھا کہ کبھی قرض ادھار بھی لینا پڑتا ہو گا وہ مسکرایا اور بو لا بیٹا اللہ کا فضل ہے کبھی ایسا موقع آیا نہیں بس صرف اتنا ہے کہ ہم چادر دیکھ کر پاوں پھیلاتے ہیں ۔میں جب ان باتو ں پر غور کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ جب ایک ناخواندہ گھرداری کرنے والی خا تون اور ایک ریڑہی لگانے والا بجٹ سازی میں اتنے مشاق ہیں پھر کیا وجہ ہے اعلیٰ تعلیمی اسناد اور بیش بہا تجربات رکھنے والے بجٹ ساز جنھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی کئی تنخواہیں تک عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی سے نواز دی جاتی ہیں بلا سوچے سمجھے کہ قومی خزانہ اس بات کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی پر انعامات کی بارش کی جائے اور پھر کیوں کیا اس قسم کی خدمات انجام دینے والے پہلے ہی تنخواہیں وصول نہیں کرتے تمام تر مراعات کے ساتھ ملک کے تمام تر قا نونی اداروں کو اس قسم کی خبروں کا نوٹس لینا چاہیئے پھر ان بجٹ سازوں کی مشاقی کس کام کی کے یہ مستقبل کے معاملات سے بے نیاز بجٹ کی تیا ری کا کام تو کردیتے ہیں لیکن کچھ ہی دن بعد متعدد اشیاء کی قیمتوں میں ردوبدل سے قومی معیشت پر منفی رحجان پیدا ہونے لگتا ہے اور سب سے بڑھ کر پیٹرول یا بجلی کی قیمتوں میں ہو نے والے اضا فے سے تمام ترمعاملات عدم استحکام کا شکا ر ہو جاتے ہیں ہو نا تو یہ چاہیئے کہ بجٹ ساز ایک ایسا میزانیہ تیا ر کریں جس میں اشیاء کی قیمتوں میں ردوبدل وقت کے ساتھ ساتھ نہ ہو اس طرح ما رکیٹ میں بھی استحکام پیدا ہوگا اور کم آمدنی والوں کی زندگی بھی سہل اورآ ّسان ہو جائے گی ۔ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے آئے دن اشیاء کی قیمتوں میں پیدا ہونے والے عدم استحکام سے بجٹ کی افا دیت ختم ہو تی جا رہی ہے لو گ ایک دوسرے سے دریا فت کرنے لگے ہیں جب آئے دن مختلف اشیاء کی قیمتوں با لخصوص پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ردو بدل کر نا ہی تھا تو بجٹ پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی
عوام کی یہ رائے جاننے کے بعد محسوس ہو تا ہے کہ اب عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنا یا جا سکتا عوام اس کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہیںہیں کہ ہمارے حکمران اور قومی بجٹ ساز قومی آمدنی اور اخراجات کا توازن کیئے بغیر ایک ایسا بجٹ پیش کر دیتے ہیں جو وقتی طو رپر تو واہ واہ کرادیتے ہیں لیکن عوام کی مشکلات کی پرواہ کیئے بغیر غیر مستحکم معیشت کے استحکام کے لیئے پس پردہ قرضوں
کے حصول پر نظر بھی رکھتے ہیں اور ساتھ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی ردوبدل کر کہ قومی اخراجات کے لیئے سرمائے کہ حصول کا راستہ بناتے ہیں اس طرح سرکاری اخراجات کہ لیئے سرمائے کا حصول تو آسان ہوجا تا ہے لیکن عوام کا انفرادی بجٹ اس پو سٹ بجٹ سے بری طرح متا ثر ہو جاتا ہے اس وقت ملک کے عام عوام کی صورت حال یہ ہے کہ بے شمار گھرانے ایسے ہیں جن کہ ہاں سادگی کا عالم یہ ہے کہ ایک وقت کھانا کھا کر لو گ زندگی گذارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں اس تمام تر صورتحا ل میں یہ کہا جائے تو کچھ غلط نہیں ہو گا کہ عوام نے مسائل کا شکار ہو کر اتنی سادگی اختیار کر لی ہے کہ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے میں مکمل سادہ طرز اختیار کرلیا ہے لیکن ایک غریب قوم کے وزراء ، سفراء ، افسران اور بشمول صدر اور وزیر اعظم عیش کی زندگی گذارہے ہیں عوام کا پیٹ کمر سے لگنے کو ہے لیکن سرکا ری خدما ت انجام دینے والوں پر انعامات اور مراعات کی برسات ہے
مو جو دہ حا لات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عوامی بھلائی کے لیئے اشیاء صرف کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ استحکام پیدا کیا جائے قرضوں کا بوجھ کم کرنے اور بتدریج ختم کرنے کے لیئے قومی اخراجات میں توازن پیدا کیا جائے سادگی اختیار کرنے کی ہر ممکن کو شش کی جائے سرکاری خدمات انجام دینے والوں کے مشاہرو ں میں کمی کی جائے ساتھ مراعات یافتہ طبقات کی مراعات فی الفور بند کی جائیں ہمارے ملک کہ عوام پہلے ہی مجبور اور مہقور ہیںانھیں مزید چکی میںنہ پیسا جائے کیوں کہ ہمارے عوام میں اب اتنی سکت نہیں وہ پہلے ہی وقت اور حا لا ت زمانہ کے ستائے ہو ئے ہیں حد تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کہ عوام میں بے شمار ایسے بھی ہیں جو مانگ تانگ کر جسم و جاں کا رشتہ برقرا ر رکھے ہو ئے ہیں ، پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے حا لیہ اضا فے کہ عوام پر شدید ترین منفی اثرات مرتب ہو نگے جہاں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضا فہ دیکھا جائے گا وہیں اس اضا فے کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں بھی ردوبدل ہو گا اس طرح ہر شے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی غربت کی شرح میں اضا فہ ہو جائے گا اور غربت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بڑئے ہی سنگین نو عیت کے ہو تے ہیں ان مسائل کو سمجھنا اور حل کر نا ہمارے حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے ہمارے مو جودہ حکمرانوں کو مسائل کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے غربت اور مہنگائی کے خا تمے کے لیئے ایک نا خواندہ خا تون کی طرح بجٹ سازی پر توجہ دینا ہو گی جو آمدنی اور اخراجات میں اس طرح توازن قائم کرتی ہے کہ محدود آمدنی میں بھی گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے جو افرا د اور اقوام آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم کرنے میں ناکام ہو جائیں انھیں غیروں کے سامنے ہا تھ پھیلا کر قرضہ ما نگنا پڑ جا تا ہے اس طرح عزت بھی جا تی ہے اور خوداری بھی اور جب خوداری رخصت ہو جائے تو افراد اور اقوام تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی ہی سے ملک کو قرضہ کے بوجھ سے نجا ت دلانے کاسبب بن سکتی ہے پھر نہ تو پیٹرول کی قیمتیں آئے دن تبدیل کر نا ہو ں گی اور نہ ہی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل ہو گا ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تدبیر سے پہلے خدا بندے یہ پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے