پاکستان دہشت گردی کا شکار

129

لاہور کا وہ علاقہ خاصا گنجان آباد تھا۔ جہاں پچھلے مہینے کی صبح ایک گاڑی میں نصب کیا گیا کئی کلو مواد دھماکے سے پھٹ گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے‘ اردگرد کے کئی سو فٹ تک کا علاقہ تباہ ہوا جو رہائشی تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔ ایجنسی نے مقامی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا حملے میں ملوث تمام ملزمان کو حکومت کے بقول گرفتار کر لیا گیا۔
یہ دھماکا عین اس وقت ہوا جب ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے والا تھا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ متوقع تھا۔ بعد میں ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ آگیا جو کہ بھارت کے حسب منشا تھا یعنی پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے ایف اے ٹڑی ایف کے صدر سے سوال کیا کہ بھارت میں یوروینیم کی چوری اور خریدوفروخت کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کی کیا پالیسی ہے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’بھارت میں صورت حال کا جائزہ مکمل کیے بغیر وہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔‘‘
بھارت میں کشمیر پر جبروستم ہوا ‘اقلیتوں کے لیے زندگی تنگ کر دی جائے‘ ہمسائیوں کے ہاں دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بات ہو یا پھر یورونیم کی فروخت جیس حساس معاملے) ہوں‘ ایف اے ٹی ایف یا UNO کے کسی ذمہ دار کو صورت حال کا جائزہ لینے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جن نکات پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ان میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خطرات پر نظر رکھے‘ پاکستان نامزد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروںپر مالی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد رکھے۔
دیکھا جائے تو پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ روس افغان جنگ ہو یا امریکا افغان جنگ پاکستان کے شہریوں نے دہشت گردی میں اپنی جانوں کا جو نقصان برسوں سہا ہے وہ دنیا کے کسی ملک نے نہ سہا نہ ہوگا اور پھر بھی الزامات پاکستان پر لگائے جاتے رہے ہیں اور لگائے جارہے ہیں۔
لاہور دھماکے کے بعد داسو میں چینی انجینئرز کی بس پر حملہ کیا گیا دونوں میں ’’را‘‘ کا تعلق ثابت ہوا پھر کوئٹہ میں آئے روز فوج پر بازاروں اور شاہراہوں پر دھماکے ہوتیذ ہیں جن میں قیمتی جانیں اور ملاک شکار ہوتے ہیں یہ دہشت گردی ہے پاکستان کے خلاف… کیا اس کے لیے ایف اے ٹی ایف کو جائزہ لینے کی فرصت نہیں ہے۔
یہ پاکستان کو چکی کے دو پاٹوں میں پیسنے کا طریقہ ہے۔ ایک طرف پہلے بھی اور آج بھی پاکستان میں دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی میں ملوث رہیں اور ہیں دوسری طرف پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر کمزور رکھنے کے لیے ایسی پابندیوں میں جکڑے رکھنا۔
آج دہشت گردی اور اس سے متعلق عالمی معاہدوں کی بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی متنازع بھی ہے۔ لہٰذا یہ بھی دہشت گردی ہے تاکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خوف و ہراس پیدا کیا جائے۔ نفسیاتی جسمانی دہشت تکلیف اور خوف پیدا کیا جائے جس سے اضطراب پھیلے۔ آج خطہ میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے‘ ایسے میں پاکستان کے دشمن عناصر پاکستان میں انتشار‘ خوف اور دہشت کی فضا بنانا چاہتے ہیں‘ پاکستان کو دبائو میں لانا چاہتے ہیں۔
11 ستمبر 2001ء کے بعد سے بیس سال تک ہزاروں امریکی شہری افغانستان‘ عراق‘ شام اور دیگری خلیجی ممالک میں تعینات رہے اور ان علاقوں میں امریکا نے ڈرون حملوں کی مدد سے مشتبہ دہشت گرد راہنمائوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کے ڈرون حملے کیے لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ امریکا کی جانب سے متنازع دہشت گردی کی کارروائیوں میں انتہائی مسلسل رہا جیسے گوانتانامو میں بغیر کسی مقدمے کے سینکڑوں مشتبہ افراد کی نظر بندی‘ دہشت گردی کے مشتبہ ملزمان جن کو کبھی ثابت نہیں کیا جاسکا‘ آنکھوں میں پٹیاں اور چہروں پر غلاف چڑھا کر سی آئی اے کی ’’بلیک سائٹس‘‘ بھیجا جانا جہاں ان کے ساتھ طویل اور اذیت ناک تفتیش کی جاتی تھی۔
اس جنگ کے دوران ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں جو غلط ثابت ہوئیں بعد کے امریکن صدور نے ان فیصلوں کو واپس لیا مگر ان کے نتائج سے دنیا کو خاص طور سے پاکستان کو آج بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔