غالب……………اقبال

41

محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکْوتِ کوہسار

تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اْگتے ہیں عالم سبزہ وار