لاک ڈاؤن، سندھ حکومت وفاق کی ہدایت کے بغیر ایسے فیصلے نہیں کر سکتی، فواد چوہدری

229

لاہور: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سندھ حکومت سے صنعتیں کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ سندھ حکومت کے فیصلوں سے تشویش ہے، پہلے بھی کورونا وائرس کی 3 لہروں کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہےکہ پوری دنیا میں کورونا کی چوتھی لہر ہندوستان سے آئی ہے اور ہندوستان کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے پوری دنیا نئی کورونا سے متاثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صنعت بند کی تو ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا اور لاک ڈاؤن سے عام لوگوں کا روزگار چھن جائے گا، جب معیشت اوپر جا رہی ہے تو لاک ڈاؤن کرنا نامناسب ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جن صنعتوں میں 100 فیصد ویکسی نیشن ہوگئی ہے، انہیں کھولا جائے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ حکومت فوری طور پر صنعت کو کھولے، اگر ایس او پیز پر عملدرآمد کیا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی جبکہ صوبائی حکومتیں انفرادی فیصلے نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وفاق اور این سی او سی کی ہدایات کی روشنی میں حکمتِ عملی بنائے، وفاقی پالیسی کے خلاف یک طرفہ صنعتیں بند کرنے سے صورتِ حال خراب ہو گی۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے اقدامات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، سندھ حکومت کے وفاق کے برخلاف اقدامات سے صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے، معیشت کے اوپر جاتے ہوئے لاک ڈاؤن نامناسب بات ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن سے معیشت کو نقصان ہو گا، بے روزگاری بڑھے گی، سندھ حکومت کی پابندیوں سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ آرٹیکل149، 151 اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق صوبائی حکومتیں انفرادی فیصلے نہیں کر سکتیں، سندھ حکومت ویکسی نیشن پر زور دے، لاک ڈاؤن کی بات نامناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر اور دیہاڑی دار طبقے کو اتنا تنگ نہ کیا جائے کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے، سندھ حکومت نے ایس او پیز پر عمل درآمد کیا ہوتا تو صورتِ حال یہ نہ ہوتی، وفاق کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں سے ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت بدقسمتی سے ایسے اقدامات نہ کر سکی کہ کورونا وائرس کی وباء کمزور ہوتی، بھارت کورونا وائرس کی نئی لہر پھیلانے کا سبب بن گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت پورے خطے میں ڈیلٹا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن چکا ہے، بھارتی کی غیر ذمے دارانہ پالیسیوں سے دنیا ڈیلٹا وائرس کا سامنا کر رہی ہے۔