شدید بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم 50میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی

164

گلگت: گلگت بلتستان میں 28 جولائی سے شروع ہونے والی بارشوں سے خطے میں مختلف مقامات پر فلیش فلڈ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوگیا  ہےجبکہ کئی مقامات پر شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے بند کردی گئی  ہے اور بابو سر ٹاپ کا راستہ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے سبب بہہ گیا ہے جس کے بعد شاہراہ قراقرم کو ایک بار پھر بند کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سے گورنر فارم تک 25 مقامات پر بلاک ہے اور گزشتہ رات شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ بلاک ہوئی جبکہ شاہراہ 50 میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کا کہناہےکہ شاہراہ کوجلد از جلد کھولنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اس میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں لہٰذا مکمل بحالی تک شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سےگورنرفارم تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔

محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ شاہراہ قراقرم کھلنے میں 3 سے 4 دن لگ سکتے ہیں اور اس دوران شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم بندرہے گی۔

گلگت بلتستان کے مطابق وہ سیاح جو بارشوں کے دنوں میں گلگت بلتستان کی سیاحت کا پروگرام بنا رہے ہیں، وہ لازمی طور پر محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کو دیکھ کر اپنا پروگرام ترتیب دیں تاکہ ان کو مسائل کا سامنا نا کرنا پڑے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق   استور کے متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی کا نظام اب تک بحال نہیں ہوسکا ہے جبکہ ضلع غذر میں بھی گلیشیئرز پگھلنے سے ندی نالوں اور دریا کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب بلتستان ڈویژن میں موسلادھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی ہے اور برالدو میں نچلے درجے کا سیلاب ہےاور غذر، نگر، دیامر، گھانچھے اور استور کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلاب اور لینڈ سلائنڈنگ کی وجہ سے سڑکوں، زمینوں، پلوں اور واٹر سپلائی کے چینلز کو نقصان پہنچا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان امتیاز علی تاج کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے کئی اضلاع اور دریاؤں میں سیلاب کی کیفیت ہے جبکہ انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو پہلے ہی سے الرٹ کر دیا تھا۔