اسرائیلی تیل کے جہاز پر ڈرون حملہ

296

بحیرہ عرب میں عمان کے ساحل کے قریب ایک اسرائیلی تیل ٹینکر کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا جس میں جہاز پر سوار کم ا ز کم دو افراد مارے گئے۔ اسرائیل نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کيا ہے۔

اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کے زوڈیک گروپ کی لندن میں واقع کمپنی ’زوڈیک میری ٹائم‘ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں تفصیل میں جائے بغیر اسے ’قزاقوں‘ کا حملہ قرار دیا گیا۔

Two killed in alleged Iranian drone attack on Israeli-managed ship - The  Jerusalem Post

مرسر اسٹریٹ لندن میں رجسٹرڈ زوڈیئک میری ٹائم کے زیر انتظام ہے، جو اسرائیلی ارب پتی تاجر عیال اوفر کے زوڈیئک گروپ کا حصہ ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں تصديق کی کہ حملے میں عملے کے دو افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔ ان میں سے ایک برطانیہ اور دوسرا رومانیہ کا شہری تھا۔ ان دونوں کے نام نہیں بتائے گئے ہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد کیا ہوا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی سمجھتی ہے کہ عملے کے کسی اور فرد کو نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیٹرے کی طرف سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرسر اسٹریٹ اب امریکا کا جوہری ایندھن سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس رونالڈ ریگن اور گائیڈیڈ میزائل سے لیس جہاز یو ایس ایس مشچرکی حفاظت میں ایک محفوظ بندرگاہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Iran is a global problem': Israel weighs response to deadly attack on ship  | The Times of Israel

بیان میں کہا گیا ہے،”امریکی بحریہ سے وابستہ دھماکہ خیز مادوں کے ماہرین اس جہاز پر موجود ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ عملے کو مزید کوئی خطرہ لاحق نہيں اور اس ليے بھی تاکہ وہ حملے کی تفتیش میں مدد کر سکیں۔”  بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے واضح اشارے ملے ہیں کہ یہ ایک ڈرون حملہ تھا۔