تین واقعات اور عوامی ردعمل

311

گزشتہ دنوں تین واقعات پر عوامی ردعمل بہت حوصلہ افزا اور خوش کن تھا:
پہلا ردعمل ملالہ یوسف زئی کے برطانوی فیشن میگزین ووگ کو شادی اور پارٹنر شپ سے متعلق تھا۔اس انٹرویو میں ملالہ نے کہا ’’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چا ہیے تو آپ شادی کے کاغذات پردستخط کیوں کرتے ہیں۔یہ ایک پارٹنر شپ کیوں نہیں ہوسکتی ۔‘‘
ملالہ کو طالبان دشمنی کی وجہ سے مغرب میں پذیرائی ملی ۔ایک حادثے کے بعد مغرب کے گوشے گوشے سے ان پر عنایات واکرام کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ان کی طرف وہ کامیابیاں اور خدمات منسوب کی گئیں جو ان سے کبھی سرزد نہیں ہوئیں۔ یہ تحسین2014میں نوبل پرائز کی صورت اختیار کرگئی اور وہ دنیا بھر میں اب تک کی کم عمر نوبل پرائزیافتہ بن گئیں۔مغرب وہ شیطان ہے کہ اس کی مدارات بھی چالاکی ، چلانے اور استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔عالم اسلام سے تعلق رکھنے والے اپنے ممدوح پر انعام واکرام سے پہلے اور بعد مغرب ایک ہی بات کا طالب ہوتا ہے ’’اسلام سے متعلق اندھا پن۔‘‘ایسا اندھا پن کہ لوگ اسلام کی اگلی صفوں سے نکل کر پچھلی صفوں میں بھی بے دلی ،ٹوٹ پھوٹ اور ناگفتہ بہ حالت میں بصد مشکل کھڑے رہ سکیں۔
ہر فرد اپنی ذاتی ،خاندانی اور معاشرتی زندگی میں کوئی اسلوب اختیارکرتا ہے۔مسلمان جس اسلوب پر عمل کرتے ہیںوہ چھوٹے بڑے ہردائرے میں شریعت کے اصولوں اور قوانین کے مطابق ہونا چا ہیے ۔مغرب مختلف طریقوں سے فضول دلائل کے ذریعے ان اصولوں اور قوانین پر حملہ کرنے کا کوئی بہانہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ملالہ مغرب کا تیارکردہ ایک ایسا ہی بہانہ ہے۔شہوانی پیاس کے وہ ناجائز چشمے اسلام نے نکاح کے ذریعے جنھیںبند کردیا ہے مغرب کے شیطان انھیںجاری کرنا چا ہتے ہیں۔ نوع انسانی کی حفاظت کے لئے جن سفلی نجاستوں کو چٹانیں رکھ کراللہ سبحانہ وتعالی نے بند کردیا ہے شیطان کے پیچھے چلنے والے بیوقافانہ اور بے شرمانہ حرکات کے پیچھے ان سے آلودہ ہونا چا ہتے ہیں۔شیطان کا فریب دینے کا طریقہ بڑا چکرادینے والا ہوتا ہے ۔وہ اچھے کاموں کو بدنما اور بے لطف بنا کر پیش کرتا ہے ۔
پارٹنر شپ کا نام دے کر زناکو کاح پرترجیح دینا انسانی نہیں حیوانی فعل ہے ۔ایسی پارٹنر شپ ہر کتے اور کتیا اور دیگر حیوانوں میں پائی جاتی ہے ۔ایسی صنفی اور جنسی پارٹنر شپ حیوانوں کی فطرت ہے ۔فطرت انسانی ایسامضبوط صنفی تعلق چا ہتی ہے کہ آئندہ نسلوں کی مل کر پرورش کرنے میں ماں اور باپ کے درمیان ایک مضبوط بندھن ہو۔اسلام عورت کو پارٹنر نہیں نکاح کی صورت گھر کی ملکہ اور حکمران بناتا ہے۔حضرت عمر ؓ کا قول ہے ’’عرب کی بھلائی اس وقت تک ہے جب تک اس کی عورتیں محفوظ ہیں‘‘ نکاح کے علاوہ کسی دوسری صورت میںجو ممکن نہیں۔
دوسراواقعہ ہم اسٹائل ایوارڈز کی تقریب میں خواتین شرکا ء کے غیر مناسب اور عریاںلباس کا تھا۔اس تقریب میںبعض شو بز فنکاروں نے وہ لباس زیب تن کئے ،وہ وضع قطع اختیار کی ،لباس کے معاملے میں وہ روپ اختیار کئے جن میں عورت فاحشہ نظر آتی ہے ۔ مغربی معاشرت میں تو اس قسم کے لباس کی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن کوئی اسلامی معاشرہ اور تہذیب اس کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ان ملبوسات میںحسن وجمال کی نمائش کو برہنگی سے قریب تر کرنے کی کوشش کی گئی ۔یہ اعلانیہ بے حیائی تھی۔اس طرح کے شوز میں مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ،اسٹیج پر ناچنا گانااور نازاواداکی نمائش وہ ناروا باتیں ہیںجن پراب کم اور بہت کم اعتراض کیا جاتا ہے۔اب اس طرح کی حرکتوں کو آسانی سے برداشت کرلیا جاتاہے ۔ہم ایوارڈ شواس سے اگلا قدم تھا ۔یہ شیطان کے فحاشی اور بدی کے حکم کا اگلا مرحلہ تھا۔ایسے لباس پہنے گئے جن میں خواتین کی جسمانی ساخت اور سینوں کو نمایاںاور اوپری حصوںکو عریاں پیش کیا گیا۔ کوئی اسلامی معاشرہ ایسے ملبوسات کی اجازت دیتا ہے یا نہیں یہ بات شرکا ء کے حاشیہ خیال میں بھی نظر نہیں آئی۔
تیسراواقعہ 21جون کوسینٹ میں پیش کئے جانے والا Domestic Violenceیعنی گھریلو تشددکی روک تھام کا بل تھاجسے آناََفاناََمنظور کرلیا گیا۔یہ ترقی یافتہ کہلانے کی وہ کوشش تھی جس کے لئے مغرب جیسی سوچ اور طرزعمل اختیارکرنا لازم سمجھا جاتا ہے۔یہ مغربی کلچر نافذ کرنے کی سمت میں قدم نہیں ہزار گز کی چھلانگ تھی۔اس بل میں اس اسلامی اور مشرقی تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں والدین اور بزرگوں کا اد ب کیا جاتا ہے۔اس بل کے بعد بزرگوں کی تنبیہ اورڈانٹ ڈپٹ حراسانی باور کی جائے گی اور قابل سزا جرم ہوگی۔اگر باپ اولاد کو غلط کام کرنے سے ٹوکتا ہے اور اولاد اسے اپنی زندگی میں دخل اندازی محسوس کرتی ہے تو پھر اولاد باپ کے تعلیم کردہ اخلاقی اور مذہبی اور معاشرتی بندھنوں کے خلاف مقدمہ کرسکتی ہے ۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا اولاد کو مارنے کی دہمکی بھی دے تو یہ جرم ہے۔کسی باپ کو صرف اس بات پر بھی عدالت کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی اولاد کے بارے میں یہ معلو مات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ کہیں غلط ہاتھوں میں تو نہیں پڑگیا۔کوئی شخص اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں تمھیں طلاق دے دوں گا یا دوسری شادی کرلوں گا یا اسے بانجھ پن یا پاگل پن کا طعنہ دیتا ہے تو طلاق یا دوسری شادی تو دور کی بات ہے ایسے دہمکی آمیز الفاظ بھی منہ سے نکا لنا جرم ہے ۔اس بل کو پیش کرتے ہوئے محترمہ شیریں مزاری نے فرمایا کہ ہم اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی پاسداری میں بنارہے ہیں۔
ان تینوں واقعات پر اپوزیشن کاوہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے یہ واقعات متقاضی تھے۔ لیکن سوشل میڈیاپر اس کا بھرپوراور طاقتورردعمل نظر آیا۔ملالہ کے بیان پرعوامی ردعمل کا مطالعہ کریںتو معلوم ہوگا یہ سطحی قسم کا نہیں تھا۔ بیشتر اعتراضات میں بڑے پر مغز اور اسلامی نکتہ نظر کی روشنی میں ملالہ کے بیان کا تجزیہ کیا گیا۔ایجاب وقبول کی اہمیت کو بیان کیا گیا۔ایک دوسرے کو پارٹنر ڈیکلئر کرکے رہنے اور نکاح کے بندھن کی صورت رہنے کے فرق کو واضح کیا گیا۔لوگوں نے محض غم وغصے کا اظہار نہیں کیا بلکہ مغربی ایجنڈے کے اہداف کی بھی نشاندہی کی ۔ مختلف چینلز پر راہ چلتے لوگوں کا جو نکتہ نظر نشرکیا گیا اس میں ملالہ کو ہمدردی کے ساتھ مغربی ایجنڈے پر عمل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا اور اس کے بیان کی عملی صورتوں میں نقصانات کی بھی نشاندہی کی گئی ۔ہم ایوارڈ کی تقریب میں عریانی اور فحاشی کے فروغ پر بھی عوامی ردعمل بہت شدید تھا۔اتنا کہ آئندہ کسی بھی ادارے کو ایسے شوز پیش کرنے سے پہلے متعدد مرتبہ سوچنا پڑے گا۔جہاں تک گھریلو تشدد بل کا معاملہ ہے اس پر اگرچہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان وسیع العریض مفا ہمت پائی گئی ۔جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام کے سینٹرز کے سواکسی کو اس بل میں خاندان کے ان ما لیکیولز کی تباہی نظر نہیں آئی جس پر اسلامی معاشرے کی تہذیبی ،اخلاقی اور معاشرتی بنیادیںقائم ہیں لیکن اس بل پر عوامی ردعمل جو میڈیا میں نظر آیا اتناشدید تھا کہ شاید ہی حکومت ان قوانین پر عمل درآمد کرواسکے ۔اس میں شک نہیں کہ عوام اسلامی تعلیمات کے بارے میں غفلت اور سستی کا شکار ہیں لیکن وہ اسلام مخالف کسی بات کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔عوام خصوصاََجوانوں میں اگر ایک طرف اسلام کے بارے میں جذبات کا پرزور سمند ر موجود ہے تواسلام کے بارے میں ان کے فہم اور شعورمیں بھی وسیع اضافہ نظر آرہا ہے ۔یہ بہت خوش آئند بات ہے ۔