طالبان کی فتح: اسباب و عوامل

241

(آخری حصہ)
کابل میں طالبان کی حکومت اسلام آباد (اور راولپنڈی)، ریاض، اور واشنگٹن کے مثلث کی حمایت سے قائم ہوئی تھی۔ اب یہ سارے مراکز ان کے دشمن بن چکے تھے۔ لیکن طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ تو بہت پہلے ہو چکا تھا، اور نو گیارہ کی تیاری بھی پہلے سے شروع ہو چکی تھی۔ بامیان کا گوتم بدھ کے مجسمہ کا انہدام طالبان کے خلاف پروپگنڈا کانیا بہانہ تھا۔ بامیان افغانستان کے وسطی پہاڑیوں میں ہندوکش کے بلند پہاڑوں میں واقع ہے۔
بامیان کا قدیم مجسمہ دراصل بہت پہلے اپنی شکل و صورت کھو چکا تھا اور بس ایک پتھر کا ہیولا یا ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 17ویں صدی میں ، موحدمغل بادشاہ اورنگ زیب نے توپوں کے ذریعہ ان دیو ہیکل سخت پتھر سے بنے ان مجسموں پر حملہ کیا تھا جس سے مجسمہ کو نقصان پہنچا اور ان کے پیر ٹوٹ گئے تھے۔ بامیان کے مجسموں کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش اٹھارہویں صدی کے فارسی بادشاہ نادر افشار نے کی تھی ، جس میں ان پر توپوں سے فائرکیا گیا تھا۔
بگڑے ہوئے ان مجسموں کو نئی شکل بھارت کے ایک ہندو سنگ تراش نے دی تھی۔ آنجہانی اندرا گاندھی نے 1969 میں بامیان کا دورہ اسی کے افتتاح کے لیے کیا تھا۔ حکومت ہندکی بھاری مالی امداد سے ان مجسموں کو دوبارہ بنایا گیا تھا۔ چنانچہ یہ مجسمے چھٹی صدی عیسوی کے نام نہاد یادگار مجسمے نہیں ہیں جس کو یونیسکو نے تاریخی اور ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ بلکہ یہ بت پرست بھارتی حکومت کی طرف سے دور جدید میں بیسویں صدی کے وسط میں بنا ئے ہوئے جدید مجسمے تھے۔
طالبان کی قیادت نے ان دیو قامت مجسموں کو گرانے کا فیصلہ دو وجوہات سے کیا تھا؛ پہلی وجہ یہ کہ اسلامی امارت افغانستان میں پبلک مقامات پر مجسمے نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دونوں طویل قا مت مجسمے قبلہ رخ بھی تھے۔ نماز کے وقت نمازی کے سر کے اوپر بلند دو بت تھے جسے بہرحال مسلمانوں کا اجتماعی مزاج گوارہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس انہدام کے وقت میں اس وقت میں نیویارک سے نکلنے والے انگریزی اخبار مسلمس ویکلی (سابق) کا پبلشر اور ایڈیٹر تھا۔ طالبان کے اس ابراہیمی عمل کی ہم نے کھل کر حمایت کی تھی۔ ہمارا اخبار امریکا کا واحد اخبار تھا جس نے طالبان کی حمایت کی تھی۔ بدھا کے بتوں کو گرانے کے خلاف امریکی اور مغربی اخبارات کے اداریے ، اور ادارتی صفحات پر کالموں اور مضامین کی بھرمار تھی۔ ایسے ہزاروں ایڈیٹوریل پیس کو کھنگالنے کے بعد مجھے صرف ایک مضمون ایسا ملا جو طالبان کے اس عمل کی حمایت میں تھا۔ یہ مضمون واشنگٹن پوسٹ میں چھپا تھا، اور لکھنے والا ایک یہودی تھا۔ اس نے لکھا کہ طالبان نے وہی کام کیا جو ہمیشہ سے انبیاء کرتے آئے ہیں۔ موسیٰؑ نے بھی یہی کیا اور ابراہیم ؑ نے بھی یہی کیا تھا۔ اس نے کہا کہ آج کی جدید دنیا آرٹ اور ثقافت کے نام پر بت پرستی کر رہی ہے۔ اور طالبان بت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے اس مضمون کو نکال کر واشنگٹن پوسٹ کے شکریے کے ساتھ اخبار کے پہلے صفحہ پر نمایاں طور پر شائع کیا تھا۔
طالبان نے پوری دنیا کی ایک نہیں سنی اور وہ ابراہیمی کردار ادا کیا جس کے بعد باطل (پوری دنیا مل کر) بڑا الاؤ تیار کرتا ہے اور ادھر اللہ کے حکم سے آگ جلانے کا کام چھوڑ کرٹھنڈی اور سراسر سلامتی بن جاتی ہے۔’’ہم نے کہا’’اے آگ،ٹھنڈی ہوجااورسلامتی بن جاابراہیمؑ پر۔‘‘ ( سورہ انبیا، آیت 69)
امریکا نے افغانستان پر حملہ کے ( جس کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا) وقت طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کر دے جو ان کے نزدیک نائن ایلیون کا ذمہ دار تھا۔ طالبان نے سوال کیا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ہمارا مہمان اس کا ذمہ دار ہے، آپ شہادت فراہم کریں تو ہم انھیں آپ کے حوالہ کر دیتے ہیں۔ امریکا کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا سوائے لندن اور نیو یارک سے شائع ہونے والے ٹبلو ئڈاور چیتھڑے ا خبار ات میں چھپنے والی سنسنی خیز خبروں کے تراشوں کے۔
طالبان نے تواضع اور مہمان نوازی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔ حکومت گنوا دی لیکن اپنے مہمانوں اور محسنوں سے بے وفائی نہیں کی۔ اس کے بعد اللہ نے بیس سال انھیں آزمائش کی ہر بھٹی سے گزار کر کندن کر دیا۔ انھیں جنگی، سیاسی، سفارتی آداب سکھائے گئے۔ اس میں مہارت حاصل ہوئی۔اور وہ ایمان کے بلند ترین مقام پر آگئے۔اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو‘‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘ (آل عمران: 173 )
اور اس کے بعد اللہ کی خصوصی مدد آگئی . ’’ اور تم فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا ‘‘۔( بنی اسرائیل : 81)
OOO