دو کشتیوں کے سوار

239

وزیر داخلہ شیخ رشید کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ دو کشتیوں کے سوار کا انجام خوشگواریت کا حامل نہیں ہوتا اس کے باوجود موصوف کو دو کشتییوں کی سواری بہت پسند ہے نامور سیاستدان ہیں مگر منصب پر قناعت پسند نہیں، سو،روحانیت کا علم بھی بلند کرتے رہتے ہیں آزاد کشمیر کے انتخابات کا سونامی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا نتائج سے لاکھ اختلافات کئے جائیں، اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا شور و شغف کیا جائے مگر یہ سب سیاسی بیانات ہیں، اور کھسیانی بلی کا کھمبا نوچنے کے مترادف ہیں کیونکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی تو تحریک انصاف کی حکومت تسلیم ہی نہیں کرتی ،مولانا فضل الرحمن نے تو الیکشن کے نتائج سے قبل ہی اعلان کر دیا تھا کہ عمران خان جیت گئے تو آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کو نہیں مانیںگے ، مگر حقائق یہی ہیں کہ کسی کے ماننے یا نا ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا عمران خان وزیر اعظم ہیں اور اپنی مقررہ مدت تک انکے سینے پر موم دلتے رہیں گے ۔
شیخ رشید کہتے ہیں کہ ان کی حویلی کے موکلوں نے جو کہا تھا آزاد کشمیر میں وہی ہوا ہے،موصوف کا یہ کہنا بھی تکرار کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ وہ فوج کے آدمی ہیں، پیر صاحب پگاڑا بھی خود کو فوج کا آدمی کہا کرتے تھے شاید شیخ رشید کو اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ چبائے ہوئے لقموں سے بھوک تو مٹائی جاسکتی ہے مگر غذائت حاصل نہیں کی جاسکتی ، موصوف نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں چین کا نظام رائج کیا جائے اور ملزمان کو موقع پر ہی سزا دی جائے تاکہ کوئی اور شخص جرم کے ارتکاب کے بارے میں سوچنا بھی جرم سمجھے مگر موصوف کو یہ احساس نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے بیانات کی تکذیب کررہے ہیں۔ اپنے وزیر وزیر اعظم کو جھٹلا رہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان ریاست پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں اور شیخ جی ریاست پاکستان کو ریاست چین بنانے کے خواہشمند ہیں، گویا دانستہ یا غیر دانستہ طور پر وہ اسلامی نظام کو مسترد کرنے کا ارتکاب کررہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ شرعی نظام نافذ کرنے میں کیا دشواری ،کیا قباحت ہے، شریعت کی بات کرتے ہوئے سیاستدانوں کی زبان کیوں لڑکھڑانے لگتی ہے ،اسلام کا نام زبان پر آتے ہی ان کا منہ چھالوں سے بھر جاتا ہے،زبان میں کانٹے اگ آتے ہیں، اگر ملک میں شریعت نافذ کر دی جائے تو بہت سے عوامی مسائل حل ہو سکتے ہیں، جرائم میں بڑی حد تک کمی آسکتی ہے ،معیشت کا قبلہ درست ہو سکتا ہے، اقتصادی حالات بہتر ہو سکتے ہیں، سودی نظام سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔
یادش بخیر ! شریعت کورٹ نے سود کو حرام قرار دیا تھا مگر اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف عدالت عظمیٰ کی دہلیز پربیٹھ گئے اور انکی اپیل نے ایسا دھرنا دیا کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے، کہنے والے درست ہی کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف خدائے بزرگ و برتر کی پکڑمیں آئے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ کی پکڑ میں آجائے اسکا بچنا ممکن ہی نہیں ہوتا ،رحمانیت کی حد پار کرنے والے قہاریت کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں درِ توبہ بھی بند ہو جاتا ہے حالات واقعات بتارہے ہیں کہ میاں نواز شریف پر توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
شیخ رشید کا کہنا ہے کہ انکا اگلا ہدف سندھ ہے ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا خاتمہ کر دیں گے ، پیپلز پارٹی کو سندھ سے بھی بے دخل کر دیں گے،تختے سے اٹھ کر تخت پر آنے والے اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں، میاں نواز شریف امیر المومنین بننا چاہتے تھے مگر بادشاہت سے بھی محروم ہو گئے ،شیخ رشید اور وزیر اعظم عمران خان کے وفادار کچھ بھی کہیں پانچ سال انکے ہیں، مگر پانچ سال کے بعد انکو جو گیدڑ سنگی دی گئی ہے اسکی میعاد ختم ہوجائے گی،گیدڑ سنگی کی مدت ایک بار پوری ہو جائے تو دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتی ،شیخ رشید آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے بارے میں کچھ بھی کہیں مگر عوام اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کشمیریوں کی عادت یہ ہے کہ مرکز میں جسکی حکومت ہو کشمیر میں بھی تاج اسی کے سر پر رکھا جاتا ہے۔سو روایت کے مطابق ’’ہما‘‘تحریک انصاف کے سر پر ہی بیٹھا ،ضمنی انتخابات ہوں یا عام انتخابات اندرون خانہ جو کچھ ہو رہاہے ہماری روایات کے عین مطابق ہے، یوں بھی ہارنے والوں نے الیکشن کو پیسے کی تماشا گری قرار دیا ہے اگر واقعی یہ پیسے کا کرشمہ ہے تو دھاندلی کا شور مچا کر سیاسی کھمبا کیوں نوچا جارہاہے ،یہاں کے سیاست دان شاک پروف ہوتے ہیں، سو یہ محفوظ رہتے ہیں، مگر عوام کو بجلی کے جھٹکے لگتے رہتے ہیں، بعض لوگوں کے اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید بنی گالا کو نبی گالا بنانے کے مشن پر ہیں، مگر یہ ممکن ہی نہیں، میاں نواز شریف کے وفاداروں نے بھی انہیں امیر المومنین بنانے کی بہت کوشش کی مگر ان کے تخت کو تختہ بننے میں دیر نہیں لگی ہمارے حکمرانوں کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ یا تو گلہ پکڑتے ہیں یا پائوں پکڑتے ہیں، اقتدار میں ہوں تو انکا لہجہ خدائی انداز اختیار کر لیتا ہے،اقتدار کی چوکھٹ ممنوعہ علاقہ بنتی ہے تو عاجزی انکا وتیرا بن جاتی ہے۔