حضرت عثمان ؓ چالیس دن پیاسے رہے مگر تلاوت و عبادت نہیں چھوڑی ، علما کرام

120

لاہور (نمائندہ جسارت) حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں افریقہ سے کابل تک اسلام کا پرچم لہرایا گیا، ذی الحج اور محرم دونوں ماہ اسلام کی تاریخ میں ایک یاد گار حیثیت رکھتے ہیں، ان دونوں مہینوں میں قربانی کی ایسی عظیم المثال یادیں پائی جاتی ہیں جو تاریخ اسلام کا تاریخی سرمایہ ہیں، ذی الحج کے مہینہ میں داماد رسولؐ خلیفہ راشد سیدنا عثمان غنی ؓکی مظلومانہ شہادت کا بے مثال واقعہ رونما ہوا ہے۔ سیدنا عثمان غنی ؓ کی شہادت مظلومانہ تھی، آپ ؓکے قصر خلافت کا محاصرہ کیا گیا، اپنے اوپر ظلم برداشت کرلیے مگر مدینہ طیبہ میں کسی قسم کی خون ریزی کی اجازت نہیں دی۔ مرکزی علماء کونسل پاکستان کے زیر اہتمام دار العلوم حنفیہ لبرٹی مارکیٹ میں شہادت حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ سیمینار زیر صدارت چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے منعقد ہوا جس میں سیکرٹری جنرل علامہ شاہ نواز فاروقی وائس چیئرمین پیر جی خالد محمود قاسمی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا شبیر احمد عثمانی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری حافظ محمد امجد رئیس، دار الافتاء مفتی حفظ الرحمن بنوری قانونی مشیر میاں محمد طیب ایڈووکیٹ حافظ شعیب الرحمن قاسمی قاری محمد مشتاق لاہوری صدر پنجاب جنرل سیکرٹری پنجاب حافظ مقبول احمد ڈپٹی سیکرٹری پنجاب مولانا اعظم فاروق سمیت دیگر علماء و مشائخ نے خطاب کیا ۔ مقررین نے شہادت حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عثمان غنی ؓ چالیس دن پیاسے رہے مگر تلاوت قرآن اورعبادت نہیں چھوڑی مسجد نبوی ؐ کی توسیع اور تعمیر میں حضرت عثمان غنی ؓ کا زیادہ حصہ ہے مدینہ منورہ کو میٹھا پانی حضرت عثمان غنی ؓ کی سخاوت سے میسر آیا جنگ تبوک میںہزاروں سامان سے لدے ہوئے اونٹوں کا چندہ حضرت عثمان غنی ؓ نے دیا حدیبیہ میں سرکار دوعالم ؐ نے اپنے ہاتھ کو عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا پہاڑ پر آپ ؓ کو شہید کا خطاب زبان نبوت نے دیا امام مظلوم نے ایسے مصائب برداشت کیے اگر پہاڑ پر ڈالے جاتے وہ یقینا ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن حضرت عثمان غنی ؓ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ اس ابتلاء سے گزر گئے اور آخر 18 ذی الحج کو شہادت کا شرف حاصل کیا۔ آپؓ جنت البقیع میں جنت کی فضاؤں میں آرام فرما ہیں ۔