افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ

117

امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ اگر طالبان بزور طاقت افغانستان میںاقتدار پر قابض ہوئے اور عوام کے حقوق کا احترام نہ کیا تو افغانستان ’’اچھوت ریاست‘‘ بن جائے گا۔ انہوں نے افغانستان کے مستقبل پر خدشات کا اظہار بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کیا ہے جہاں وہ نئی امریکی انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے بعد پہلے غیرملکی دورے پر گئے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ نے افغانستان کی جنگ کے فاتح طالبان کو خوفزدہ کرنے کے لیے جو اصطلاح استعمال کی ہے اس کا تعلق بھارت سے ہے جہاں کے کروڑوں مقامی باشندوں کو حملہ آور آریائوں نے ’’اچھوت‘‘ بنا کر صدیوں سے ناقابل بیان زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بھارت کے برہمنوں اور امریکہ کے سفید فام یورپی حکمرانوں میں قدر مشترک یہ بھی کہ امریکہ کے موجودہ سفید فام حکمران امریکہ کی مقامی آبادی کی نسل کشی کے بعد ہی اس سرزمین کے مالک بنے ہیں اور یہی کام ان کے دیگربھائی بند آسٹریلیا کی سرزمین میں کر چکے ہیں افغانستان میں شکست کھانے کے باوجود امریکیوں کا تکبر برقرار ہے اور وہ طالبان کو دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ انہیں ’’اچھوت‘‘ بنا دیں گے۔ انسانیت کے خلاف تاریخی جرائم کے مرتکب ہونے کے باوجود تہذیب اور انسانیت کا سبق سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پورے دنیا نے یہ تماشا دیکھ لیا ہے کہ کس طرح ذلت آمیز انداز میں امریکہ کو تاریخ کی ترقی یافتہ جنگی ٹکنالوجی حاصل ہونے کے باوجود شکست ہوئی ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ دنیا بھر کے تحقیقی اداروں میں انسانی تاریخ کے اہم ترین واقعے کا تجزیہ کیا جائے اور سبق حاصل کیا جائے کہ کس طرح، ایک مختصر ترین گروہ نے مادی ذرائع و وسائل نہ ہونے کے باوجود دنیا کی سپرپاور کو شکست دے دی۔ یہ آج کا سب سے بڑا موضوع ہے، لیکن کوئی بھی قوم اپنی ہزیمت اور شکست کو یاد نہیں کرتی۔ اپنی روایت کے مطابق امریکہ اپنی شکست کا ملبہ کسی دوسرے گروہ کے اوپر ڈالنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہ بھی انسانی تاریخ کا المیہ ہے کہ انسانیت دشمن سرمایہ پرستانہ نظام کے خدا امریکہ کے جرائم کی تفصیلات بیان کرنے والا کوئی اہل دانش کا گروہ موجود نہیں اسی وجہ سے ڈھیٹ بن کر امریکہ افغانستان کے فاتح طالبان کو دھمکی دے رہا ہے کہ ’’ایسا افغانستان جو اپنے عوام کے حقوق کا احترام نہ کرے اور جو اپنے عوام پر مظالم کرے گا تو ایسا ملک ’’اچھوت ریاست‘‘ بن جائے گا، حالیہ ہفتوں میں طالبان کی کارروائیوں کے دوران میں ’’مظالم‘‘ کی اطلاعات تشویش ناک ہیں، ایسی اطلاعات طالبان کی ملک کے حوالے سے نیت کا کوئی اچھا تاثر پیش نہیں کرتیں‘‘۔ امریکی شکست کے بعد ایسی دھمکی آمیز بیانات کوئی وزن نہیں رکھتے البتہ مستقبل کے افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات کو ضرور تقویت پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ امریکہ اورطالبان کے درمیان دوحا مذاکرات کی کامیابی کے بعد بین الافغان مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ جب امریکہ افغان طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا تھا اور پاکستانی میں زیر حراست طالبان رہنمائوں کو رہا کروا رہا تھا تو اس وقت امریکہ نے طالبان کی قیادت کو اپنی کٹھ پتلی حکومت یعنی کابل رجیم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن طالبان کی مدبر قیادت نے اس جال میں پھنسنے سے انکار کر دیا اور اس موقف پر ڈٹ گئے کہ مسئلے کے صرف دو فریق ہیں۔ افغانستان پر قابض امریکہ اور اپنے ملک کے دفاع کی جنگ لڑنے والے امارات اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین طالبان اور امریکہ کو یہ موقف تسلیم کرنا پڑا۔ اس معاہدے کو امریکی اداروں نے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی لیکن امریکہ کے لیے افغانستان ایسی مصیبت بن چکا تھا کہ پینٹاگون اور سی آئی اے کی مزاحمت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے ذریعے امریکی فوج انخلا کا حکم دے دیا اور ان کی حکومت کے آخری دن تک مذاکرات جاری رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی شکست کے باوجود جوبائیڈن بھی اس معاہدے کو قبول کرنے کے لیے مجبور پائے گئے ہیں۔ اب یہ سازشی عمل ضرور شروع ہو گیا ہے جس کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی سے ڈرایا جارہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ طالبان کی صورت میں افغانستان میں شریعت کی حکمرانی سے امریکہ سمیت مسلمان ملکوں کی حکومتیں بھی خوفزدہ ہیں۔ اسی خوف کا اظہاروزیراعظم پاکستان عمران خان کا بیان ہے کہ افغان خانہ جنگی پاکستان میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں صورت حال بہت خراب کر دی ہے۔ سرحد پار ہونے والی ممکنہ خانہ جنگی پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ امریکہ کو بہت پہلے جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب نیٹو فوجی موجود تھے سیاسی تصفیے کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، لیکن جب امریکہ نے فوج کو بہ مشکل دس ہزار کر دیا اور انخلا کی تاریخ بتا دی تو طالبان نے سوچا کہ وہ جیت گئے ہیں اور اس وجہ سے اب انہیں سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ امریکہ افغان مسئلے کا حل نکالنے میں ناکام رہا ہے۔ اب آدھے سے زیادہ افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ اور نیٹو افواج مذاکرات کی صلاحیت کھو بیٹھے، جب افغانستان میں ڈیڑھ دو لاکھ افواج تھیں تب سیاسی حل کی کوشش کی جانی چاہیے تھیں‘‘وزیراعظم عمران خان کا بیان ان تمام طبقات نمائندگی کر رہا ہے جو اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کو بدترین شکست ہوئی ہے اور طالبان فاتح ہیں۔ اب بھی دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ ماضی کی طرح عالمی سطح پر طالبان کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلاکر انہیں افغانستان پر پسپائی پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اب تو افغان طالبان نے سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر بھی اپنی صلاحیت اور برتری کا سکہ جما دیا ہے۔ امریکی مرضی کے خلاف طالبان بین الاقوامی طور پر قبولیت حاصل کر رہے ہیں اور اس کا تازہ مظہرطالبان کے وفد کا دورہ چین ہے۔ چین کو افغانستان کے حوالے سے سنکیانگ کے مسئلے پر حقیقی تشویش ہے۔ اس لیے کہ امریکہ کو اگر مسلمانوں کے خلاف ظلم اگر کہیں نظر آتا ہے تو وہ ایغور اور روہنگیا مسلمان ہیں۔ امریکہ کو مسلمانوں سے ہمدردی نہیں ہے لیکن چین کے خلاف اس نے جو جنگ شروع کی ہوئی ہے اس کا محاذ سنکیانگ اور میانمر(برما)بھی بنانا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے چین میں طالبان نمائندوں نے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، لیکن دنیاکو بھی اس بات کا یقین دلانا چاہیے کہ افغانستان کے خلاف بھی کسی ملک کی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کا راستہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت ختم کی جائے اور طالبان سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ دوحا مذاکرات کی کامیابی ایک مثال ہے۔