تھرپارکر میں بچوں کی صحت کے حوالے سے بدترین صورتحال

94

تھرپارکر (پ ر) ضلع تھرپارکر میں بچوں کی صحت کے حوالے سے صورتحال بدترین نہج پر پہنچ چکی، غذائیت کی کمی کا شکار بچے بے بسی، مایوسی اور بیچارگی کی صورت بنے ہوئے ہیں۔ تھرپارکر کے سادہ لوح والدین کو بچوں میں غذائی کمی کو دور کیے جانے کے سلسلے میں نہ تو ضروری آگاہی دی جارہی ہے، نہ ان کی کونسلنگ ہورہی ہے، نہ کمیونیٹیز کو موبلائز کیا جارہا ہے اور نہ ہی دور دراز رہنے والے بچوں کو مخصوص صحت مراکز آئوٹ پیشنٹ تھراپیوٹک پروگرام پر ریفر کیا جارہا ہے۔ غریب والدین کو یہ معلوم ہی نہیں کہ اُنہیں اپنے بیمار بچوں کو کہاں لے کر جانا چاہیے، ان کی دیکھ بھال کیسے کرنا ہے۔ واضح رہے کہ تھرپارکر کے نواح میں غذائیت کی کمی کے مسائل پر کام کے لیے ایک این جی او کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، تاہم این جی او کی جانب سے کام کا آغاز نہیں کیا جاسکا ہے۔ دوسری جانب غذائی کمی کا شکار بچوں کے علاج معالجے کے لیے پورے ڈسٹرکٹ میں مجموعی طور پر بنائے جانے والے مخصوص صحت مراکز کی تعداد صرف 62 ہے جو کہ آبادی کی مناسبت سے نہایت کم ہیں، چونکہ ڈسٹرکٹ تھرپارکر کے دور دراز علا قوں میں لوگوں کو معیاری سفری سہولیات میسر نہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مخصوص صحت مراکز کا قیام اسطرح سے عمل میں لایا جائے کہ لوگ سفری پریشانیوں سے محفوظ رہیں اور قائم کیے جانے والے قریب ترین مخصوص صحت مراکزپر باآسانی پہنچ سکیں۔ مزید برآں مخصوص صحت مراکز پر غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کو دی جانے والی اہم ترین دوا دستیاب ہی نہیں، ایسی صورت میں بچوں کا علاج معالجہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔