’’گھریلو تشدد بل‘‘ مزید معاشرتی بگاڑ

218

کتنا حسین ہمارا دین اور کتنی عظیم ہماری معاشرتی زندگی، الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اگرچہ کہ شریعت پر پورا عمل بھی نہیں ہورہا مگر پھر بھی ہمارے گھرانے اور تہذ یب ثقافت بڑے چھوٹے کا ادب لحاظ، محبت، مودت اور حسنِ اخلاق ہی تو اس معاشرے کا طرئہ امتیاز ہے ابھی بھی مشترکہ خاندانوں میں دادی دادا یا نانی نانا اور والدین بچوں کے درمیان تعلق کی ایک اہم وجہ رشتوں کا احترام اور عقیدہ توحید کا دلوں میں راسخ ہونا ہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی جواب دہی کا احساس بھی وہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے حدیں قائم ہیں اور ایک خوبصورت معاشرتی نظام میں ہر کسی کی عزت اور اہمیت اللہ نے ہی مقرر کر کے رکھ دی ہے اور اسی میں معاشرتی، اخلاقی، انفرادی، اجتماعی ہر طرح کی بھلائی ہے ورنہ مادرپدر آزاد معاشرہ حیوانیت کے سوا کچھ نہیں۔ میری ایک عزیزہ ہیں ان کے بیٹے کی ابھی تین سال پہلے ہی شادی ہوئی ہے۔ ایک بیٹا ہے سال بھر کا، وہ امریکہ میں رہتے ہیں مگر میاں بیوی لڑتے جھگڑتے ہیں۔ بقول میری دوست کے بیٹا بھی زبان اور ہاتھ چلاتا ہے جبکہ بہو صاحبہ بھی ذرا لحاظ نہیں کرتیں، میاں سے تو میاں سے ساس سسر سے بھی تو تو میں میں میں حد سے گزری ہوئی ہیں مگر وہ کہتی ہیں کہ میں صرف اس وجہ سے برداشت کرجاتی ہوں کہ مہینہ دو مہینہ یہاں رہ کر چلی جائے گی پھر وہاں میاں کے ساتھ رہیں ہمیں کیا تکلیف ہے مگر اگر علیحدگی ہوگئی تو چھوٹا بچہ رْل جائیگا جس کا ان دونوں کو احساس نہیں۔مگر کیونکہ وہ امریکا میں رہتی ہیں اس لیے زیادتی کئے چلی جارہی ہیں کہ وہاں کے قانون کے مطابق انہیں کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا۔ شوہر بھی کچھ نہیں کہہ سکتا جبکہ اگر دیکھا جائے تو نہ وہ زیادہ زبان چلائے اور بلاوجہ جھک جھک کرے تو آرام سے فیملی خوشحال رہ سکتی ہے۔ یہاں بات ادب آداب تہذیب تمیز کی آتی ہے کہ چھوٹوں کو بڑوں کی بات ہرصورت ماننا چاہیے اور معمولی معمولی باتو ں پر گھر کا ماحول نہیں خراب کرنا چاہیے۔ نہ بوڑھے ماں باپ کو اور نہ ہی اپنی سگی اولاد کا ماحول نہیں خراب کرنا چاہیے۔ نہ بوڑھے ماں باپ کو اور نہ ہی اپنی سگی اولاد کو دکھ دینا چاہیے۔ صبر برداشت دونوں میں اگر پایا جائے اپنی غلطیوں کا احساس ہو اور احترام آدمیت ہو تو ایسی صورتِ حال ہی پیدا نہ ہو۔اب اس معاملے میں دیکھیں کر ماں باپ کی اہمیت بچوں کو سمجھنا ہے ان کی تمام جائز باتوں کو ماننا ہے اللہ کے احکامات کو بلا چوں چرا ماننا ہے ماں باب کو تو اف تک نہ کہنے کا حکم ہے تو اسے میں اگر اولاد بدتمیزی کرے تو کیا ان کی جائز ڈا نٹ ڈپٹ پر کیا انہیں حراساں کیا جائے؟ پولیس کو بلایا جائے؟ سزا دلوائی جائے؟ اسی طرح بعض گھروں میں میڈیا کے مارے بچے اتنے بگڑے ہوئے ہیں کہ ماں باپ کو کسی خاطر میں نہیں لاتے بلکہ انکو الٹا بلیک میل کرتے ہیں۔ خودکشی اور بھاگ جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، من مانی اور من چاہی کرتے ہیں ایسے میں ماں باپ کیا بلیک میل ہوتے ہیں وہ تو پہلے ہی اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اوپر سے یہ الٹے قانون کہ انہیں کچھ نہ کہو بلکہ ہر طرح کی برائی کے لیے کھلا چھوڑ دو تو کیا یہ معاشرتی بگاڑ ہوگا یا سدھار؟ پھرخربوزے کر دیکھ کر اگر دوسرا خربوزہ بلکہ پورا درخت رنگ پکڑ گیا تو معاشرے کا کیا ہوگا؟ کبھی وبا بھی رکتی ہے۔ اپنے کیسے زہریلے اثرات چھوڑتی ہے یہاں تک کہ دنیا کو چھوڑنا پڑجاتا ہے کیا یہ تسلیم ہے یا ہمارے اسلامی قوانین اصول و ضوابط، آدابِ زندگی؟ اگر شروع سے ہی عملی نمونہ ماں باپ بنیں اور احکامِ الٰہی کی پابندی لازمی کریں اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ کا سکون خراب ہو ایک بے حیائی کو ہی دیکھ لیں۔ دیکھنے کی کیا ضرورت وہ تو آجکل سرِ عام پر گھر ہر موبائل ہر ہاتھ میں موجود ہے۔ حد سے گزری ہوئی حد درجہ بگڑی ہوئی اس میں آلودہ بڑے بوڑھے چھوٹے بڑے سب ہی ہوتے جارہے ہیں کھوتے جارہے ہیں کہ اب برائی برائی ہی نہ رہی گویا حیا ہی نہ رہی تو پھر جو چاہیں کرتے پھریں والی بات ہے اس کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ بل ہے۔ نہ پیمرا والوں کو، نہ ہی حکومتی اداروں کوہوش آرہا ہے نو کوئی برا مان رہا ہے جس کا جو دل چاہے کر رہا ہے کوئی روک ٹوک نہیں سب اہی انجوائے کر رہے ہیں کتنی دفعہ فون کئے پیمرا والوں کو کتنے مراسلے لکھے گئے کہنے والوں نے روک تھام کی بے لگامی کو لگام ڈالنے کی باتیں بھی کیں لیکن سب بے سود!!! کیسے کیسے اشتہارات، ڈرامے، فلمیں کیا کچھ نہیں دکھایا جا رہا ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رنگ رہی، وہی مثل کہ
’’ اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چک گئیں کھیت‘‘
مہنگائی سے زیادہ بے حیائی بری ہے ’’کورونا‘‘ سے زیادہ اب ان بے باک منہ پھاڑ سر جھاڑ بندوں کا کچھ کرونا ورنہ بھرونا والی بات ہے ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ اس بے ہودہ اور مغربی تہذیب کے برے اصولوں کو لگام ڈال کر اپنی ہی چال چلیں، کوے کی طرح اپنی ہی چال بھول گئے تو کیا ہوگا؟ سمجھ لیں کہ کیا کرنا ہے
اپنی ہی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤگے
اور اب پھسلنا بہت ہی بھاری پڑے گا کہ علاج مشکل ہی نہیں مہنگائی کے سبب نا گزیر ہوتا جا رہا ہے اللہ ہی رحم فرمائے اور صحیح سمت دکھائے۔ احتساب احتساب اور بار بار اپنا ہی احتساب کریں سدھار بگاڑ سے بہتر ہے۔ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جانا دانشمندی ہے۔ نقل نہیں عقل سے کام لیں، اپنے اسلاف پر اپنی شخصیت پر اپنے رب پر مکمل بھروسہ کریں اور اپنی اخلاقی بنیادیں گویا اپنا مضبوط ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان پر عمل پیر اہونے کا ارادہ نیت اور جدوجہد عمل ہی آپ کو ہم کو ان خرافاتی گھریلو تشدد بل کے گل کھول کر دکھا سکتا ہے ورنہ آپ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے لئے تیار ہیں۔ میری تو یہی گزارش ہے کہ اگر آپ معاشرتی سدھار کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو کم ازکم اسے بگاڑ کے دلدل میں نہ گھسیٹیں کہ یہ بات اخلاقی، سیاسی، مذہبی، اسلامی ہر لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے اور کبھی بھی کسی کے لیے درست نہیں ہے۔