افغان فریقین میں اتفاق رائے کی سفارتی کوشش کرررہے ہیں،امریکی وزیر خارجہ

104

نئی دہلی/کابل(صباح نیوز)امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی فورسز کے انخلا کے باوجود امریکا افغانستان میں موجود رہے گا، فریقین میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔بھارت کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران بدھ کو اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر کے ساتھ وزارتی سطح پر تفصیلی گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان بزور طاقت افغانستان میں اقتدار پر قابض ہوئے اور عوام کے حقوق کا احترام نہ کیا تو افغانستان تنہا رہ جائے گا،حالیہ ہفتوں میں طالبان کارروائیوں کے دوران مظالم کی اطلاعات تشویشناک ہیں، ایسی اطلاعات طالبان کی ملک کے حوالے سے نیت کا کوئی اچھا تاثر پیش نہیں کرتیں۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکا بہت حد تک افغانستان میں افغان حکومت کی مدد میں مصروف عمل رہے گا اور ہم مختلف شعبوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کی مدد بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے باور کرایا کہ وہ عالمی طور پر قبولیت چاہتے ہیں اور افغانستان کے لیے عالمی حمایت کے خواہاں ہیں، شاید وہ چاہتے ہیں کہ ان کے رہنماؤں کو دنیا بھر میں پابندیاں اٹھانے کے بعد آزادی سے سفر کرنے کی اجازت دے دی جائے لیکن ملک پر بزور طاقت قبضہ کرنا اور عوام کے حقوق کے خلاف ورزی کرنا وہ راستہ نہیں جس سے یہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں، صرف ایک راستہ ہے جو کہ میز پر تنازعات کو پر امن انداز میں حل کرنا ہے، ایسا افغانستان جس کی حکومت میں سب شامل ہوں اور اس میں تمام لوگوں کی نمائندگی شامل ہو۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں ، افغانستان کے تنازع کا فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لویہ جرگہ نے خطرناک 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی مثال قائم کی،امن کے لیے یہ ہماری کوشش کا ثبوت ہے۔اشرف غنی نے کہا کہ آج کی جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ نیٹ ورکس کی جنگ ہے، امریکا اور ناٹو سے فوجی انخلا کا فیصلہ واپس لینے کو کبھی نہیں کہا،ہم فوجی انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اب افغان عوام کو مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔