‘ہم طالبان سےبراہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں’

214

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ہم طالبان سےبراہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں افغان حکومت سیاسی تصفیےپریقین رکھتی ہے۔

افغان صدراشرف غنی نےمشترکہ رابطہ اورمانیٹرنگ بورڈ کےاجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ہم طالبان سےبراہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں 5ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کی جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ نیٹ ورکس کی جنگ ہےبین الاقوامی برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ افغا ن عوام حکومت مخالف عنصر نہیں چاہتے۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدربائیڈن اورنیٹو کےفوجی دستوں سےدستبرداری کےفیصلےکااحترام کرتے ہیں افغانستان کےمسئلےکا کوئی فوجی حل نہیں افغان حکومت سیاسی تصفیےپریقین رکھتی ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے متعصب اور حقیقت کے منافی قراردیا ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ گزشتہ 6ماہ میں طالبان کی جانب سے کسی شہری کو براہ راست نشانہ نہیںبنایا گیا اور نہ ہی کوئی حملہ شہریوں کے جانی نقصان کا سبب بنا ہے جب کہ کابل انتظامیہ نے براہ راست سول آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کی اور توپخانے سے حملے کیے جن میں سیکڑوں گھر، بازار اور انفرااسٹرکچر تباہ ہوئے ،بزرگوں ، بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔