عید پر کراچی میں 8 لاکھ 25 ہزار جانوروں کی قربانی

546

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) پاکستان میں اس سال عید الاضحی پر 22لاکھ گائے،60 لاکھ بکرے، دنبے اور ایک لاکھ اونٹ ذبح کیے گئے ہیں،کراچی میں ساڑھے 3لاکھ گائے بیل، ساڑھے 4 لاکھ بکرے،دنبے اور25ہزار اونٹوں کی قربانی کی گئی ہے۔

پاکستان ٹینریزایسوسی ایشن کے چیئرمین انجم ظفر نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال فلاحی اداروں اور مدارس کی جانب سے بروقت کھالیں ٹینریز تک پہنچانے کی وجہ سے کھالیں کم خراب ہوئی ہیں۔جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بڑے جانور کی کھالوں میں 3 سے 4 سو روپے اور بکرے کی کھالوں میں 80 سے 100 روپے اضافہ ہوا ہے، لیکن اس سال مویشی منڈیوں میں جانوروں کی عدم دستیابی اور مہنگائی کی وجہ سے قربانی میں 20فیصد کمی آئی ہے۔

جس طرح جانوروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے اس طرح سے اس کی افزائش کے لیے حکومتی سطح پر تو جہ نہیں دی جارہی ہے، قربانی کے دنوں میں ملک بھر میں گائے اونٹ بیل بچھڑے اور بکروں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوجاتا ہے لیکن گزشتہ74 برسوں میں حکومتی سطح پر ملک میں جانوروں کی افزائش کے لیے کسی قسم کی کوئی بھی قابل ذکر منصوبہ بندی سامنے نہ آسکی ہے۔جس کے نتیجے میں کم آمدن والے افراد کی قوت خرید دم توڑ گئی اور لاکھوں افراد قربانی کرنے کے ثواب عظیم سے محروم رہے ہیں۔چونکہ لوگوں کی آمدن بھی کم ہے اور مہنگائی کا طوفان بھی شدید ہے لہٰذا بہت سے افراد جوکہ ہر سال قربانی کے لیے اپنا جانور خریدا کرتے تھے اب ان کا رجحان اجتماعی قربانی کی طرف ہوگیا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ گائے،بیل،بکرے اور اونٹ کی افزائش کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں تاکہ لوگوں کو قربانی کرناآسان ہو سکے،انہوں نے کہا کہ جانوروں کی تعداد کم ہونے اور خریدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑے جانوروں کی قیمتیں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں ہر سال پاکستان میں قربانی کرنے میں کمی آرہی ہے اس سال بھی گزشتہ سال کے مقابلے 20فیصد کم قربانی کی گئی ہے۔پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے مزید کہا کہ اس سال گائے اور بیل کی کھال کی قیمت میں 3سے 4سو روپے اضافے کے ساتھ 800سے 1200سو روپے،بکرے اور دنبے کی کھال180سے250روپے اور اسی طرح اونٹ کی کھال 700سے800سو روپے تک اس کی کوالٹی کے حساب سے خریدی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ اس سال قربانی کی کھالیں کم خراب ہوئی ہیں جس کی بنیادی وجہ لوگوں کو قربانی کی کھالوں کے حوالے سے شعور اور آگاہی ہے جس کے لیے ہم نے عیدقربان سے قبل محکمہ لائیو اسٹاک، لیدر ماہرین،ہیلتھ آفیشلز، قصاب، فلاحی اداروں اور مدارس اور ٹینریز ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے ساتھ مل کر کھالوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا تھا اس کے علاوہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی 30فیصد کھالیں خراب ہو گئی تھیں جس کی مالیت ڈھائی سے 3 ارب روپے بنتی ہے لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا ہیں کراچی کا موسم بھی اچھا ہونے کی وجہ سے کھالیں کم خراب ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسطرح بعض میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کو قربان کرنے سے منع کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا کے زریعے اس کا پرچار کیا گیا ہے وہ لوگ کسی صورت مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہے ہمیں باحیثیت مسلمان یہ بتایا گیا ہے کہ عید قربان پر ہمیں اللہ کی راہ میں حلال جانوروں کی قربانی کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قربانی کی کھالوں کو ہم تک پہنچانے میں سب سے زیادہ مدارس، فلاحی ادارے اور کھالوں کے بیوپاری جو عید کے تینوں روز لوگوں سے خرید کر ہماری ٹینریز تک باآسانی اور بروقت پہنچائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ کورونا وبا کے باعث بین الاقوامی مارکیٹوں میں کھالوں کی ایکسپورٹ کم ہونے کی وجہ سے کھالوں کی قیمت میں کمی آئی ہے جیسے جیسے کورونا وبا میں کمی آئے گی تو دیگر کاروبار کی طرح کھالوں کے کاروبار کرنے والوں کا کاروبار بھی مستحکم ہوگا اور اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔