افغانستان پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو واپس بلائے پھر کوئی الزام لگائے، وزیر اعظم

227

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے سیاسی حل کیلیے دباؤڈالنے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا، طالبان خود فاتح سمجھ رہے ہیں،اب انہیں سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہے،خطے کا کوئی اور ملک پاکستان کی کوششوں سے برابری کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور پھر افغانستان  سے مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کی جدوجہد کی،حالیہ بیانات میں افغان رہنماؤں نے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا، افغانستان پہلے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو واپس بلائے پھر کوئی الزام لگائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ممکن ہے، پچھلے تین سالوں سے حکومت میں رہ کر میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں،بد قسمتی سے یہ سراسر بھارت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈاہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں غلط تاثر موجود ہے کہ پاکستان کو عسکری ادارے کنٹرول  کرتے ہیں،اس کی وجہ افغان مہاجرین کا پاکستان میں قائم کیمپوں میں کرکٹ کا سیکھنا ہے،کرکٹ کی تاریخ میں افغانستان نے بہت کم وقت میں ترقی کی،اس کی تائید امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔

عمران خان نے کہا کہ ہندوستان امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ آر ایس ایس کے نظریے کے زیر تسلط ہے، لیکن پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے،حکومت کو اس مؤقف پر عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے، جب تک بھارت اپنے 5 اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا اس سے بات چیت ممکن نہیں۔