ہیپاٹائٹس کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

210

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) 28 جولائی کو ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے مناتا ہے۔ وائرل ہیپاٹائٹس ایک متعدی بیماری ہے جو بنیادی طور پر ہیپاٹائٹس وائرس کی پانچ اقسام یعنی ہیپاٹائٹس اے ، بی ، سی ، ڈی اور ای سے پھیلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جگر کی سوزش ہوتی ہے اور سالانہ 1.4 ملین افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

وائرس مختلف راستوں سے منتقل ہوتا ہے- ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ خوراک اور پانی سے، ہیپاٹائٹس بی غیر محفوظ خون اور دیگر جسمانی سیالوں سے اور ہیپاٹائٹس سی متاثرہ خون سے نمائش ہونے پر۔

28 جولائی عالمی ہیپاٹائٹس ڈے کے لئے منتخب کیا گیا تھا کیوں کہ یہ نوبل انعام یافتہ پروفیسر بارچ سموئیل بلبرگ کی سالگرہ ہے جس نے ہیپاٹائٹس بی وائرس کی دریافت کی تھی۔ ہیپاٹائٹس سے متعلق آگاہی کا مقصد وائرل ہیپاٹائٹس اور اس کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام ، اسکریننگ اور کنٹرول کو مضبوط بنانے پر عوام کی توجہ دلانا ہے۔

ہیپاٹائٹس ایک بیماری ہے جو جگر کی سوزش سے متعین ہوتی ہے اور اعضاء کے ٹشووں میں سوزش پیدا کردیتی ہے۔ ہیپاٹائٹس محدود یا بغیر کسی علامت کے ساتھ ہوسکتا ہے لیکن اکثر ہیپاٹائٹس کی علامات میں کم بھوک اور دیگر ظاہری علامتیں شامل ہیں۔ 

شدید (Acute) ہیپاٹائٹس خود بھی ٹھیک ہوسکتی ہے تاہم دائمی ہیپاٹائٹس مزید ترقی کرسکتا ہے اور جگر کی مکمل خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ کسی بھی آپریشن اور دیگر معالجے کیلئے خون کی دوسرے جسم میں منتقلی سے پہلے اس کی مکمل جانچ کرلی جائے۔ گھر اور گھر سے باہر مقامات پر صفائی کا خیال رکھا جائے، کچھ بھی کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں اور صاف ستھری خوراک استعمال کی جائے۔