سائنوویک ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز 6 ماہ میں ختم، ماہرین

421

بیجنگ: چینی ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی سائنوویک ویکسین لگنے کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز 6 ماہ میں ختم ہوجاتی ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے سائنوویک کی 2 ڈوز کے بعد تیسری بوسٹر ڈوز اینٹی باڈیز کو بڑھائے گی۔

تفصیلات کے مطابق چینی ماہرین نے سائنوویک ویکسین کے اثرات سے متعلق ایک تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کرونا کے خلاف سائنوویک ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز 6 ماہ میں ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے بوسٹر لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنوویک کی 2 ڈوز کے بعد تیسری یعنی بوسٹر ڈوز اینٹی باڈیز کو بڑھائے گی، اس حوالے سے 18 سے 59 سال عمر کے افراد پر تحقیق کی گئی، جن کی اینٹی باڈیز میں سائینوویک کی تیسری ڈوز لگنے سے اضافہ ہوا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اینٹی باڈیز میں کمی سے کس طرح ویکسین ڈوز کی تاثیر متاثر ہوگی، کیوں کہ سائنس دانوں کو واضح طور پر کسی ویکسین کے لیے اینٹی باڈی کی سطحات کی شدت کو ابھی معلوم کرنا باقی ہے، جو ویکسین کو بیماری سے بچاؤ کے قابل بناتی ہے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ موڈرنا اور فائزر کی ویکسینز کے ذریعے ان لوگوں کو تیسری ڈوز کے لیے تیار ہو چکے ہیں، جو سائنوویک کی دو ڈوز لے چکے ہیں، کیوں کہ کرونا وائرس کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے خلاف اس کی تاثیر پر تشویش پائی جاتی ہے۔

ترکی نے سائنوویک ویکسین لینے والے شہریوں کو سائنوویک یا فائزر کی ویکسینز کے ذریعے تیسری ڈوز دینے کا آغاز کر دیا ہے اور خیال رہے کہ جون کے اختتام تک سائنوویک کمپنی ایک ارب ویکسین ڈوز پوری دنیا کو فراہم کر چکی ہے۔

دوسری جانب عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین سائنوویک کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے اور وزرات صحت کے حکام کے مطابق سائنو ویک کی 30 لاکھ خوراکوں کی کھیپ اسلام آباد پہنچی ہے اور سائنو ویک کی یہ کھیپ حکومت کی جانب سے خریدی گئی ہے۔