ـ’تجھے اپنا اسمعیل قر با ن کر نا ہو گا‘

164

ہم مسلما ن ہر سال عیدالاضحی کے مو قع پر اس عظیم قر با نی کی یا د تا زہ کر تے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رب ِدو جہا ں کی قر بت ہمیشہ سے قر با نی کی متقاضی ہے۔ مگر یہ کا فی نہیں ہے۔ حقیقت میں حضر ت ابرا ہیم کوحضر ت اسمعیل اپنی پو ری متا عِ حیا ت میںسب سے ز یا دہ عز یز تھے۔ چنا نچہ ربِ دو جہا ں کی قر بت ہم سے بھی اپنی سب سے ز یا دہ عز یز ہستی یا شے کی قربا نی کی متقا ضی ہو تی ہے۔اسے خدا کی راہ میں قر با ن کیے بنا اس کا قر ب نصیب نہیں ہو تا۔ کسی کا مال ، کسی کا عہدہ،کسی کی اولا د، اورکسی کا نفس اس کی آ زما ئش ہیں۔ دنیا میں آزما ئش انہی کے لیے ہے جنہیں خد ا پا ک پسند کر تا ہے۔ اور قربا نی اور صبر وہی کر تے ہیں جو خدا پا ک کو چا ہتے ہیں۔ تاہم اگر ہم ملکی سطح پر اپنے جذ بہِ قر با نی کی با ت کر یں تو یہ حقیقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شد ہ ہے کہ پا کستان کا شما ر چو ٹی کے اْن پا نچ مما لک میں ہو تا ہے جو چیریٹی اور دیگر رفاہی کا مو ں میں پیش پیش ہو تے ہیں۔ تا ریخ شا ہد ہے کہ جب بھی کبھی وطنِ عز یز کو کسی نا گہا نی آفت کا سا منا کر نا پڑا تو یہا ں کے عو ام نے حسبِ تو فیق مصیبت زد گا ن کی مد د کر نے میں کو ئی کسر نہ چھو ڑی۔ بے شک یہ امر اطمینان بخش ہے کی کو رونا وا ئر س کی لا ئی وبا کے ان دنو ں میںہما رے عو ام اسی روایتی جذ بے سے پیش پیش نظر آرہے ہیں۔ تا ہم دوسر ی جانب اگر حکو مت کے رول کی بات کی جائے تو کورونا وائرس کے نئے کیسز میں مسلسل اضافے کے ساتھ یہ حقیقت تشویش کا موجب ہے کہ ملک میں ایک عر صہ سے جاری لاک ڈائون کے باوجود ابھی تک کم آمدنی والے طبقے کے لیے امداد کے منصوبے پر عمل شروع نہیں کیا جاسکا۔ بظاہر سب سے بڑی رکاوٹ ایسا نظام وضع کرنے میں درپیش ہے جو آبادی کے اس حصے کی نشان دہی کرے جس کے لیے یہ امدادی
پروگرام طے کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیدارا ابھی تک مستحق افراد کی نشان دہی اور ان تک رسائی کے تصورات میں گم ہیں۔ آ جا کے سب کی نظریں آن لائن درخواستوں اور موبائل ایپلی کیشنز پر ٹکتی ہیں، مگر کوئی یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ سوسائٹی کے جس حصے کے لیے چار سے 6 ہزار گزارہ الائونس کا معاملہ زیر بحث ہے ان کی غالب اکثریت تو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہے۔ چنانچہ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے امدادی پیکیج کی تقسیم کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا نیز اس کی شفافیت پر بھی سوال کھڑے ہوسکتے ہیں۔ موبائل ایپلی کیشنز یا آن لائن درخواست کے ذریعے دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا مشکل ہے، شاید ناممکن بھی۔ حکومت ضلعی انتظامیہ کی مدد سے دیہاڑی دار طبقے کی رجسٹریشن کرسکتی تھی مگر اس کے لیے بھی لاک ڈائون سے بہت پہلے کام شروع کرنے کی ضرورت تھی۔ دوسری جانب رضاکاروں کی بھرتی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف
اقدامات وقت کے خلاف دوڑ کے مترادف ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑے گا کہ بعض حوالوں سے ہم اس دوڑ میں وقت سے بہت پیچھے جارہے ہیں۔ رضاکاروں کی اس وقت اشد ضرورت تھی جب دیہاڑی دار افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بیٹھے تھے۔ ان کی تشویش بڑھتی جارہی ہے جبکہ حکومتی امداد کی ابھی تک کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایسے مواقع پر اگر رضا کار نفری موجود ہوتی تو انہیں ان ضرورت مندوں کو امداد اور کھانا مہیا کرنے کے لیے بروئے کارلایا جاسکتا تھا۔ اب جبکہ صورتحال سنجیدہ تر ہوتی جارہی ہے اور ابھی کرنے کو بہت سے کام پڑے ہیں، رضاکارانہ بھرتی کا عمل اگر شروع بھی کردیا جاتا ہے تو یقینا اس پر کئی دن لگیں گے اس کے بعد ہی انہیں ان کی ذمہ داریاں سونپی جاسکیں گی۔ یہ کام مکمل ہونے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک ملک میں وبا کی کیا صورت ہوگی؟ کون جانتا ہے اور وبا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے لوگ کیونکر گزارا کریںگے؟ یہ حیرت کا باعث ہے کہ اس صورتحال میں حکومت سیاسی رہنمائوں کو ان کی پوری استطاعت کے مطابق بروئے کار نہیں لارہی، حالانکہ یہ دن انہی سے مدد طلب کرنے کے ہیں۔
لیجیے صا حب، با ت کہیں سے کہیں نکل گئی ۔مگر کہیں ایسی بے محل بھی نہیں گئی۔ انفرا دی قر با نی ، جس سے میں نے با ت شر وع کی تھی، اس سے آ گے بڑھ کر یہ اجتما عی قر با نی تک جا پہنچی۔ چلیے اب انفرادی قر با نی کی جا نب پلٹتے ہیں۔اپنی عا قبت ہی نہیں، اپنی دنیا سنو ارنے کے لیے بھی ہمیں ربِ دو جہا ں کے ا و لو لعزم پیغمبر حضر ت ابرا ہیم کے جذبہِ قر با نی سے سبق حا صل کر نا ہو گا۔آ ج ہم اپنے کھا نے کی میز پہ افطا ری کے بے شما ر لو ا ز ما ت سجا تے وقت یہ دیکھنا بھول جا تے ہیں کہ ہما را ہمسا یہ کس حا ل میں ہے۔ ہم کسی یتیم کی آواز پر اپنے دل میں کسی قسم کا درد محسو س نہیں کرتے۔ قربانی کا جذ بہ تو کہتا ہے کہ اپنی تما م تر افطا ری یتیمو ں کے حوا لے کر کے خو د نمک سے افطا ر کر لیا جا ئے۔ یتیمو ں کی مو جو دگی میں اپنے بچو ں کو ز یا دہ پیار نہ کر یں۔ کسی بیو ہ کو یہ ز حمت ہی نہ دیں کہ وہ دستِ طلب آ گے بڑھا ئے۔ اس کی ما لی امدا د اس کو اس کی مجبو ری کا احسا س دلا ئے بنا اس تک پہنچا ئیں۔ مگر نہیں صا حب نہیں، ہم یہ سب کر تے ہیں اس سے ووٹ ما نگنے کے لیے، اس سے اپنے کسی مقد مے میں اپنے حق میں گو اہی دلوا نے کے لیے۔ یہا ں تک کہ اس سے تعلقات استوا ر کر نے کے لیے۔