مہر کے بارے میں مسائل

303

(۲)بعض لوگ شوہر کو دبائو میں رکھنے یااپنی ناموری کے لیے بھاری مہر مقرر کرتے ہیں، اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ مہر ادا تو کرنا نہیں ہے، یہ سوچ غیر شرعی ہے ، شریعت نے مہر ادا کرنے ہی کے لیے مقرر کیا ہے اور جب تک مہر ادا نہ ہو، وہ دَین (واجب الوصول) کہلاتا ہے۔مہر بیوی کا حق ہے اور یہ نکاح کے واجبات میں سے ہے، مہر بیوی کے احترام کی علامت ہے، اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیا کرو ، (النساء: 4)‘‘۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص مہر نہ دینے کی شرط پر نکاح کر لے، تب بھی عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی اور امام مالک کے نزدیک اس صورت میں نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔
شریعت کا اصول یہ ہے کہ لڑکے کی مالی حیثیت اوروقت و حالات کے مطابق باوقار اور مناسب مہر مقرر کیا جائے، یعنی نہ اتنا زیادہ ہو کہ لڑکاادا ہی نہ کرسکے اورنہ اتنا کم ہو کہ لڑکی والوں کے لیے خِفّت کا باعث بنے۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مہر بھی دوسرے قرضوں کی طرح ایک قرض ہے۔ یہ سوچ غلط ہے کہ مہرکی ادائی شوہر کی وفات یا بیوی کو طلاق کی صورت میں ہی لازم ہوتی ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے، مہر کا طلاق یا موت سے کوئی تعلق نہیںہے، نکاح کے بعدازدواجی تعلق قائم ہوتے ہی بیوی کو مہر اداکرنابہرحال واجب ہو جاتا ہے اوربہتر یہ ہے کہ مہر نکاح کے وقت ہی ادا کر دیا جائے۔ عہدِ صحابہ اور بعد کے ادوار میں نکاح کے وقت ہی مہر اداکرنے کا معمول تھا، یہ روایت اسلامی عربی معاشرے میں اتنی راسخ تھی کہ فقہاء نے لکھا ہے :’’ اگر کوئی عورت دعویٰ کرے کہ شوہر کے ساتھ اُس کی خَلوت ہوچکی ہے، اس کے باوجود شوہر نے مہر ادا نہیں کیا ، تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے ،کیونکہ یہ ظاہرِ حال کے خلاف ہے‘‘۔ بدقسمتی سے اب ہمارے ہاں نکاح کے وقت مہر ادا کرنے کا رواج نہیں رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اگر کسی عورت کو اس کا مہر ادا کردیا جائے تو وہ خوف زدہ ہوجاتی ہے کہ کہیں شوہر کا ارادہ طلاق دینے کا تو نہیں ہے۔
بعض صورتوں میں مہر ادا کرنے کی نیت ہی نہیں ہوتی، محض رسمی طور پر مہر مقرر کر لیا جاتا ہے، رسول اﷲؐکا ارشاد ہے:’’جس نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں یہ ہے کہ وہ مہر ادانہیں دے گا، تو اس نے دھوکہ بازی کی، اگر اس نے مرتے دم تک مہرادا نہیں کیا، تو قیامت کے دن اﷲتعالیٰ سے ایک زانی شخص کی حیثیت سے اس کی ملاقات ہو گی، (المعجم الاوسط:1851)‘‘، مہر اداکرنے کو غیر اہم سمجھنے والوں کے لیے یہ بہت بڑی وعید ہے۔ اس لیے نکاح کے وقت پوری دیانت داری کے ساتھ مہر ادا کرنے کی نیت ہونی چاہیے اور نکاح کے بعد مقرر ہ مہر بیوی کواداکردینا چاہیے، افسوس کی بات یہ ہے کہ شادی کے موقع پر غیر شرعی رسوم پر تو پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لیکن مہر،جو شریعت کا تقاضا ہے، ادا نہیں کیا جاتا۔ سو ہم نے شریعتِ الٰہی پر شریعتِ رسوم کوغالب کردیا ہے۔