ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوششیں

143

بجٹ چاہے وفاقی سطح کا ہو یا صوبائی بنیاد پر ہو یا اس سے کسی چھوٹے انتظامی یونٹ کا، محاصل کی، وصولیابی کا اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔ بجٹ میں جو بھی فلاحی، ترقیاتی یا انتظامی پروجیکٹس ہوتے ہیں ان کا دارومدار محاصل یا آمدنی پر ہوتا ہے۔ سال 2021-22ء کے وفاقی بجٹ میں کل اخراجات کا تخمینہ 8487 ارب روپے ہے۔ جب کہ مجموعی محاصل کی وصولیابی کا اندازہ 5829 ارب روپے ہے جس میں کچھ کانٹ چھانٹ بھی کی جائے گی۔ اس طرح وفاقی سطح پر بجٹ خسارہ 3422 ارب روپے ہوگا جو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 6.3 فی صد ہے۔ اس خسارہ کو کچھ بیرونی امداد اور گرانٹ، کچھ اندرونی قرضے اور دوسری سرکاری اسکیموں کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان پر مجموعی قرض 45 کھرب روپے ہے جس میں 115 ارب ڈالر بیرونی قرضے ہیں۔ اسی طرح 30 جون 2021ء تک سرکلر ڈیٹ کا حجم 2.32 کھرب روپے ہوچکا ہے۔
ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان جو بلاشبہ ایٹمی قوت ہے مگر کتنے بڑے قرضوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہے، ساتھ ہی انڈیا بھی ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کی گردن دبوچ رہا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں ٹیکسوں کی وصولیابی کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ بلاشبہ پچھلے مالی سال میں اس سلسلے میں پاکستان نے 4721 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرکے ایک پیش رفت ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایکسپورٹس اور ترسیلات زر نے سہارا دیا ہے۔ لیکن ایف بی آر کی کارکردگی ابھی تک پیچھے ہے مختلف ملکی اور غیر ملکی ماہرین معیشت کے نزدیک پاکستانی معیشت سے 10,000 ارب روپے تک ٹیکس وصول ہوسکتا ہے۔
حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے مختلف کوششیں کررہی ہے۔ پچھلے سال ہول سیلرز اور بڑے ریٹیلرز کے لیے ایک الیکٹرانک مشین تجویز کی گئی جو بڑے دکانداروں کے کائونٹرز پر نصب کی جائے گی اور اس کا براہ راست تعلق ایف بی آر سے ہوگا۔ حکومت کے مطابق اب تک 11 ہزار مشینیں لگائی جاچکی ہیں لیکن ملک میں ایسے دکانداروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس کے لیے طویل عرصہ چاہیے۔ جب کہ پاکستان کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے ٹیکسوں کی شرح جو اس وقت 11 فی صد ہے بڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔ پچھلے سال کے آخر تک 30 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 70 لاکھ لوگوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ یعنی 40 لاکھ لوگوں نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ اسی سلسلے میں نادرا سے مدد لینے کا آپشن موجود ہے۔
پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے پر مختلف ماہرین معیشت کی رپورٹیں اور سروے موجود ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بہترین گورننس سے ٹیکس کی وصولیابی بڑھتی ہے یعنی قانون کی حکمرانی، کرپشن کے سخت قوانین، سستے اور فوری انصاف کا نظام ہی ٹیکسوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔ دوسری رپورٹ کے مطابق پراپرٹی ٹیکس سے حکومت کے محاصل میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے نچلی سطح کر افسران کو کارکردگی کی بنیاد پر اضافی رقم دی جائے۔ ایک اور تجویز یہ ہے کہ سروس سیکٹر کے کاروبار کو دستاویزی بنایا جائے اور ہر لین دین تحریری شکل میں موجود ہو۔
محاصل کی وصولیابی میں نمایاں اضافے کے ذریعے پاکستانی معیشت بہتر ہوسکتی ہے۔ معاشرے کے نچلے طبقوں کے حالات میں بہتری آسکتی ہے اور قرضوں کا بوجھ کم ہوسکتا ہے۔